کیا طلاق کی عدت میں گھرسے باہر جاسکتے ہیں کسی ضروری کام کے لۓ یا نہیں؟ اور اس دوران کن مردوں سے پردہ کرنے کا حکم ہے؟ بہنوئی، بھائی، والد ماموں، چچا۔
واضح ہو کہ عدتِ طلاق میں بھی عورت کے لۓ بغیر کسی شدید مجبوری( جیسے بیماری وغیرہ کی وجہ سے ڈاکٹرکے پاس جاناوغیرہ) کے گھر سے باہرجانا جائز نہیں، بلکہ گھر کی چاردیواری میں رہنا ضروری ہے، اورجن نامحرم مردوں (بہنوئی، دیور، چچازاد، ماموزاد وغیرہ) سے عام حالت میں پردہ کرنا لازم ہے، دورانِ عدت بھی ان سے پردہ لازم اور ضروری ہے، جبکہ بھائی، والد، چچااور ماموں چونکہ محرم ہے اور عام حالت میں بھی ان سے پردہ کرنے کا حکم نہیں، اس لۓ دورانِ عدت بھی ان سے پردہ لازم نہیں۔
فی الدر المختار مع رد المحتار: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه".(536/3)۔
و فیہ ایضاً: ومعتدة موت تخرج في الجدیدین وتبیت أکثر اللیل في منزلہا؛ لأن نفقتہا علیہا فتحتاج للخروج اھ (180/5، ط: دار الکتاب)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0