السلام علیکم!
اپنی بیٹی کے بارے میں سوال پوچھنا ہے جو ذہنی طور پر معذور بچی ہے، جو میرے ساتھ پیدائش سے ہی کینیڈا میں مقیم ہے، ہم نے اس کی شادی 15 سال پہلے ایک ایسے شخص سے کرائی جو پاکستان میں رہ رہا ہے،لیکن وہ ہمیشہ ویزا کی نا منظوری کی وجہ سے کینیڈا نہیں آ سکا ، اس لئے شادی کے بعد ان کا کبھی کوئی جسمانی تعلق نہیں قائم ہوا ،بلکہ صرف کاغذات و دستاویزات پر ، صرف کال کے ذریعہ دوری رشتہ تھا ، آخری بار وہ 1/5 ڈیڑھ سال قبل متحدہ عرب امارات (UAE) میں چند دنوں کے لئے ملے تھے، لیکن پھر بھی کوئی جسمانی تعلق قائم نہیں کیا ، اب سوال یہ ہے کہ میری بیٹی کا شوہر پاکستان میں دل کا دورہ پڑنے سے اچانک انتقال کر گیا، جبکہ میری بیٹی کینیڈا میں ہے، کیا اس پر عدت کا حکم لاگو ہوتا ہے یا نہیں ؟جیسا کہ ان میں کبھی کوئی جسمانی تعلق قائم نہیں ہوا ،اور وہ آفشلی(ڈاکٹری) طور پر ذہنی معذور اسپیشل خاتون ہے۔ نوٹ:لڑکی اور لڑکے کے درمیان خلوتِ صحیحہ ہو چکی تھی،دوسری بات یہ ہے کہ سوال میں مذکور عورت کے ذہنی مریض ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عورت کی گفتگو بعض اوقات بچوں کی طرح ہوتی ہے،حالانکہ اسکی عمر پچیس سال کم و بیش ہے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگرسائلہ کی بیٹی کے ہوش وحواس سالم ہوں ،تو انکے درمیان اگرچہ جسمانی تعلق قائم نہ ہوا ہو ، تب بھی شوہر کے انتقال کر جانے کی صورت میں بیوہ(سائلہ کی بیٹی)پر چار ماہ دس دن عدّت پوری کرنا لازم اور ضروری ہو گا ، اور شوہر مرحوم کے ذمہ طے شدہ مکمل حق مہر کی ادائیگی بھی لازم ہو گی ہے ، جو کہ مرحوم کے ترکے سے ادا کی جائے گی۔
قال اللہ تعالیٰ : و الذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا ۔الآیة(البقرة:234)
و فی الدر المختار : (و تعتدان) أي معتدة طلاق و موت(في بيت وجبت فيه)و لا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينھدم المنزل أو تخاف)انهدامه ، أو(تلف مالها ، أو لا تجد كراء البيت) و نحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه ، اھ(536/3)
و فی بدائع الصنائع : و أما الذي يجب أصلا بنفسه فهو عدة الوفاة ، و سبب وجوبها الوفاة قال الله تعالى ﴿و الذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا﴾ (البقرة: ٢٣٤) ، و أنها تجب لإظهار الحزن بفوت نعمة النكاح إذ النكاح كان نعمة عظيمة في حقها فإن الزوج كان سبب صيانتها و عفافها و إيفائها بالنفقة، و الكسوة، و المسكن فوجب عليها العدة إظهارا للحزن بفوت النعمة و تعريفا لقدرها، و شرط و جوبها النكاح الصحيح فقط فتجب هذه العدة على المتوفى عنها زوجها سواء كانت مدخولا بها أو غير مدخول بها ، و سواء كانت ممن تحيض أو ممن لا تحيض؛ لعموم قوله ﴿و الذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا﴾ (البقرة: ٢٣٤)، ولما ذكرنا أنها تجب إظهارا للحزن بفوت نعمة النكاح و قد وجد ، و إنما شرطنا النكاح الصحيح ؛ لأن الله تعالى أوجبها على الأزواج و لا يصير زوجا حقيقة إلا بالنكاح الصحيح ، و سواء كانت مسلمة أو كتابية تحت مسلم لعموم النص ، و لوجوب المعنى الذي وجبت له ، و سواء كانت حرة أو أمة أو مدبرة أو مكاتبة أو مستسعاة لا يختلف أصل الحكم ؛ لأن ما وجبت له لا يختلف، و إنما يختلف القدر لما نذكر اھ(192/3)
و فی الهندية : (الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر و المتعة) و المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة : الدخول ، و الخلوة الصحيحة ، و موت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء ۔(303/1)
و فی ردالمحتار : (قوله و العدة) وجوبها من أحكام الخلوة سواء كانت صحيحة أم لا ط : أي إذا كانت فيه نكاح صحيح ، أما الفاسد فتجب فيه العدة بالوطء كما سيأتي اھ(118/3)
و فی تنقيح الفتاوى الحامدية : (سئل) في امرأة مات زوجها و هما ساكنان في دار أبيه فلم تعتد فيه بل خرجت إلى غيره بلا ضرورة و أمرها الأب بالاعتداد فيه فهل تعتد فيه ؟ (الجواب): نعم و تعتدان أي معتدة طلاق و موت في بيت وجبت فيه و لايخرجان منه إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل أو تخاف انهدامه أو تلف مالها أو لا تجد كراء البيت ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه و في الطلاق إلى حيث شاء الزوج إلخ شرح التنوير من الحداد . اھ(1/57)۔واللہ اعلم
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0