احکام عدت

جسمانی تعلق قائم ہونے سے قبل شوہر کا انتقال ہوجانے پر عدت کا مسئلہ

فتوی نمبر :
68868
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / عدت نان و نفقہ / احکام عدت

جسمانی تعلق قائم ہونے سے قبل شوہر کا انتقال ہوجانے پر عدت کا مسئلہ

السلام علیکم!
اپنی بیٹی کے بارے میں سوال پوچھنا ہے جو ذہنی طور پر معذور بچی ہے، جو میرے ساتھ پیدائش سے ہی کینیڈا میں مقیم ہے، ہم نے اس کی شادی 15 سال پہلے ایک ایسے شخص سے کرائی جو پاکستان میں رہ رہا ہے،لیکن وہ ہمیشہ ویزا کی نا منظوری کی وجہ سے کینیڈا نہیں آ سکا ، اس لئے شادی کے بعد ان کا کبھی کوئی جسمانی تعلق نہیں قائم ہوا ،بلکہ صرف کاغذات و دستاویزات پر ، صرف کال کے ذریعہ دوری رشتہ تھا ، آخری بار وہ 1/5 ڈیڑھ سال قبل متحدہ عرب امارات (UAE) میں چند دنوں کے لئے ملے تھے، لیکن پھر بھی کوئی جسمانی تعلق قائم نہیں کیا ، اب سوال یہ ہے کہ میری بیٹی کا شوہر پاکستان میں دل کا دورہ پڑنے سے اچانک انتقال کر گیا، جبکہ میری بیٹی کینیڈا میں ہے، کیا اس پر عدت کا حکم لاگو ہوتا ہے یا نہیں ؟جیسا کہ ان میں کبھی کوئی جسمانی تعلق قائم نہیں ہوا ،اور وہ آفشلی(ڈاکٹری) طور پر ذہنی معذور اسپیشل خاتون ہے۔ نوٹ:لڑکی اور لڑکے کے درمیان خلوتِ صحیحہ ہو چکی تھی،دوسری بات یہ ہے کہ سوال میں مذکور عورت کے ذہنی مریض ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عورت کی گفتگو بعض اوقات بچوں کی طرح ہوتی ہے،حالانکہ اسکی عمر پچیس سال کم و بیش ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگرسائلہ کی بیٹی کے ہوش وحواس سالم ہوں ،تو انکے درمیان اگرچہ جسمانی تعلق قائم نہ ہوا ہو ، تب بھی شوہر کے انتقال کر جانے کی صورت میں بیوہ(سائلہ کی بیٹی)پر چار ماہ دس دن عدّت پوری کرنا لازم اور ضروری ہو گا ، اور شوہر مرحوم کے ذمہ طے شدہ مکمل حق مہر کی ادائیگی بھی لازم ہو گی ہے ، جو کہ مرحوم کے ترکے سے ادا کی جائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ : و الذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا ۔الآیة(البقرة:234)
و فی الدر المختار : (و تعتدان) أي معتدة طلاق و موت(في بيت وجبت فيه)و لا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينھدم المنزل أو تخاف)انهدامه ، أو(تلف مالها ، أو لا تجد كراء البيت) و نحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه ، اھ(536/3)
و فی بدائع الصنائع : و أما الذي يجب أصلا بنفسه فهو عدة الوفاة ، و سبب وجوبها الوفاة قال الله تعالى ﴿و الذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا﴾ (البقرة: ٢٣٤) ، و أنها تجب لإظهار الحزن بفوت نعمة النكاح إذ النكاح كان نعمة عظيمة في حقها فإن الزوج كان سبب صيانتها و عفافها و إيفائها بالنفقة، و الكسوة، و المسكن فوجب عليها العدة إظهارا للحزن بفوت النعمة و تعريفا لقدرها، و شرط و جوبها النكاح الصحيح فقط فتجب هذه العدة على المتوفى عنها زوجها سواء كانت مدخولا بها أو غير مدخول بها ، و سواء كانت ممن تحيض أو ممن لا تحيض؛ لعموم قوله ﴿و الذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا﴾ (البقرة: ٢٣٤)، ولما ذكرنا أنها تجب إظهارا للحزن بفوت نعمة النكاح و قد وجد ، و إنما شرطنا النكاح الصحيح ؛ لأن الله تعالى أوجبها على الأزواج و لا يصير زوجا حقيقة إلا بالنكاح الصحيح ، و سواء كانت مسلمة أو كتابية تحت مسلم لعموم النص ، و لوجوب المعنى الذي وجبت له ، و سواء كانت حرة أو أمة أو مدبرة أو مكاتبة أو مستسعاة لا يختلف أصل الحكم ؛ لأن ما وجبت له لا يختلف، و إنما يختلف القدر لما نذكر اھ(192/3)
و فی الهندية : (الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر و المتعة) و المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة : الدخول ، و الخلوة الصحيحة ، و موت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء ۔(303/1)
و فی ردالمحتار : (قوله و العدة) وجوبها من أحكام الخلوة سواء كانت صحيحة أم لا ط : أي إذا كانت فيه نكاح صحيح ، أما الفاسد فتجب فيه العدة بالوطء كما سيأتي اھ(118/3)
و فی تنقيح الفتاوى الحامدية : (سئل) في امرأة مات زوجها و هما ساكنان في دار أبيه فلم تعتد فيه بل خرجت إلى غيره بلا ضرورة و أمرها الأب بالاعتداد فيه فهل تعتد فيه ؟ (الجواب): نعم و تعتدان أي معتدة طلاق و موت في بيت وجبت فيه و لايخرجان منه إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل أو تخاف انهدامه أو تلف مالها أو لا تجد كراء البيت ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه و في الطلاق إلى حيث شاء الزوج إلخ شرح التنوير من الحداد . اھ(1/57)۔واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68868کی تصدیق کریں
0     858
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شوہرکی وفات کی اطلاع اگرتاخیرسے مل جائے، توعدت کی ابتداء کب سے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام عدت 0
  • اگر مطلقہ معتدہ کے شوہر کا انتقال ہوجائے، تووہ عدت کس طرح مکمل کریگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام عدت 0
  • دوران عدت بیٹی کے رشتہ کے لئے گھرسےنکلنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   احکام عدت 0
  • بیوہ کی عدت اور اسکے احکام

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • دوران عدت ملازمت پر جانے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام عدت 1
  • بیوہ ہوجانے کے بعد عورت کا ہمیشہ یا تا عقدِ ثانی زیورات کا استعمال ترک کردینا

    یونیکوڈ   احکام عدت 1
  • شوہر کے انتقال کی بعد بیوی کا ولی و سرپرست کون ہو گا والدین یا سسرال والے؟

    یونیکوڈ   احکام عدت 3
  • شوہر سے دو سال الگ رہنے کے بعد طلاق کی صورت میں عدت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • گھر منہدم ہونے کی وجہ سے دوسری جگہ عدت گزار نا

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • عدت کے دوران گھر سے باہر نکلنے اور پردہ کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   احکام عدت 0
  • دورانِ عدت نکاح کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام عدت 1
  • بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • معمر خاتون کے لئے عدت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • بیماری کے سبب ماہواری میں تاخیر ہونے کی وجہ سے عدت اور نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   احکام عدت 1
  • حمل ضائع ہونےسے عدت ختم ہونےکاحکم

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • والدین کے گھر عدت گزارنے والی بیوی کا خرچہ شوہر پر لازم ہے؟

    یونیکوڈ   احکام عدت 2
  • حالت حیض میں طلاق اور عدت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • ادا کردہ فیس کے ضائع ہونے کے خدشے کی صورت میں عدت ترک کرنا

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • عورت میکے میں ہو, اس صورت میں طلاق ہوجانے پر عدت کے احکامات

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • عدتِِ وفات میں چمکدار کپڑے پہننا

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • دورانِ عدت نواسے کا سوتیلی نانی سے بات چیت کرنا

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • جسمانی تعلق قائم ہونے سے قبل شوہر کا انتقال ہوجانے پر عدت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • ہمبستری سے قبل طلاق کی صورت میں عدت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
  • عدت کی ابتداء پہلی طلاق سے ہوگی یا آخری طلاق سے ؟

    یونیکوڈ   احکام عدت 1
  • دوماہواری کےبعدحیض آنا بند ہو جائے تو عدت کیسے پوری ہوگی ؟

    یونیکوڈ   احکام عدت 0
Related Topics متعلقه موضوعات