میں ایک کام کرنے والی عورت ہوں، اور کسی وجہ سے شوہر سے طلاق لے رہی ہوں، میرا سوال یہ ہے، کہ تین مہینہ کے عدت کے دوران میں کام پر جا سکتی ہوں؟
واضح ہو کہ طلاق کے بعد مطلقہ عورت کے لیے شوہر کے گھر میں عدت پورا کرنا لازم ضروری ہے، اور اس دوران بغیر کسی مجبوری کے گھر سے باہر جاناجائز نہیں۔ اس لیے اگر سائلہ کا شوہر اسے طلاق دیکر اپنے نکاح کی بندھن سے آزاد کردیتاہے، تو ایسی صورت میں اسے شوہر کے گھر میں ہی عدت پورا کرنا لازم اور ضروری ہوگا، اور دوران عدت کام کاج پر جانے اور گھر سے نکلنے کی اجازت نہ ہوگی۔ اور دوران عدت نان ونفقہ کے اخراجات شوہر کے ذمہ حسب استطاعت لازم ہوں گے۔
کما فی رد المحتار:
"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه،"(كتاب الطلاق، ج:3، ص:536، ط:ايج ايم سعيد)
الفتاوی الھندیہ:
المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعياً أو بائناً، أو ثلاثاً حاملاً كانت المرأة، أو لم تكن، كذا في فتاوى قاضي خان‘‘(الباب السابع عشر في النفقات، 557/1)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0