میرے والد 11 ستمبر 2023 کو وفات پاگئے ،انہوں نے اپنے پیچھے اپنی بیوہ اور دو بیٹے " میرا بھائی اور میں" چھوڑے ہیں ، میرے والد کی وفات کے وقت ان کی عمر 82 سال اور میری والدہ کی عمر 67 سال تھی،میری والدہ کا نام ریحانہ گیلانی اور میرے والد مرحوم کا نام شاہ عالم گیلانی ہے, میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میری والدہ کتنے عرصہ عدت میں ہوگی ؟ جیسا کہ ایک تکنیکی اسلامی رسم ہے ،تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اگر حمل قرار پائے تو پیدا ہونے والے بچے کا والد معلوم ہو ، لیکن اس مسئلہ میں میرے والدین کی عمر کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تکنیکی وجہ قابل قبول نہیں ،براہِ مہربانی اس پر ایک فتویٰ کی ضرورت ہے۔ جزاک اللہ
واضح ہوکہ طلاق ہوجانے یا شوہر کے انتقال کی صورت میں عورت کیلئے عدت گزارنا حکمِ خداوندی ہے اور اس سے مقصود صرف استبراءِ رحم نہیں ،بلکہ نکاح جیسی نعمت کے زوال پر افسوس کا اظہار کرنا ہے اور اس کے علاوہ دیگر کچھ ایسی حکمتیں ہیں جو بظاہر انسانی عقل سے ماوراء ہیں ،اس لئے قرا ن مجید کی واضح نص سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے، اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے ،یہ حکم مطلق ہے ،اس میں جوان اور بوڑھی عورتیں سب داخل ہیں ، اس میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے ،لہذا سائل کی والدہ اگر امید سے نہ ہو تو اس پر چار ماہ دس دن عدت گزار نا لازم ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ : وَ الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَ عَشْرًا (البقرۃ: 224 الآیة)-
و فی البحر الرائق : (قوله و للموت أربعة أشهر و عشر) أي : عدة المتوفى عنها زوجها بعد نكاح صحيح إذا كانت حرة أربعة أشهر و عشرة أيام لقوله تعالى {و الذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا} [البقرة: 234] أي عشرة أيام بناء على أنه إذا ذكر عدد الأيام أو الليالي فإنه يدخل ما بإزائه من الآخر و به اندفع قول الأوزاعي إن العدة أربعة أشهر و عشر ليال أخذا من تذكير العدد أعني العشر في الكتاب كما سمعت ، و في السنة في حديث «لا حداد إلا على زوجها أربعة أشهر و عشرا» (الیٰ قولہ ) فإن مات عن وفاء فعدتها عدة الحرة عن وفاة دخل بها أم لا اھ (4/144)۔
و فی الفتاوی التاتارخانیة : و عدۃ المتوفی عنھا زوجھا اذا کانت غیر حامل و ھی حرۃ اربعة اشھر و عشرا , یستوی فی ذالک الدخول و عدم الدخول و الصغر و الکبر اھ (5/228)۔
و فی حجة اللہ البالغة : وَ مِنْهَا التنويه بفخامة أَمر النِّكَاح حَيْثُ لم يكن أمرا يَنْتَظِم إِلَّا بِجمع رجال ، وَ لَا يَنْفَكّ إِلَّا بانتظار طَوِيل ، وَ لَوْلَا ذَلِك لَكَانَ بِمَنْزِلَة لعب الصّبيان يَنْتَظِم ، ثمَّ يفك فِي السَّاعَة (الیٰ قولہ) وَ أَيْضًا فان من حسن الْوَفَاء أَن تحزن على فَقده ، وَ تصير تفلة شعثة، وَ أَن تحد عَلَيْهِ ، فَذَلِك من حسن وفائها ، وَ تَحْقِيق معنى قصر بصرها عَلَيْهِ ظَاهرا (2/220)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0