ایک عورت بغیر محرم کے عمرہ کرنے کے لیے تیار ہوئی ہے اور عمرہ پر جانے کے وقت اور عمرہ سے واپسی پر اس عورت کے محرم رشتہ داروں کا اس کوملنے کے لیے جانا اور اسکومبارکبا د دینا اور اس سے دعائے خیر کے لیے کہنا جائز ہے یا نہیں اور اس عورت کا عمرہ ادا ہوگا یا نہیں ؟
واضح ہو کہ عورت کے لیے بغیر محرم کے عمرہ کے لیے جانا درست نہیں بلکہ گناہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کوئی عورت بغیر محرم کے عمرہ کر کے آئے تو اس کے استقبال کے لیے جانا، اس کو عمرہ کی مبارکباد دینایا دعا کی درخواست کرنا جائز اور درست ہے ۔
کما فی صحیح المسلم : عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ، تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ» اھ (2 /432)۔
و فی الدر المختار :(و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا أو ذميا أو برضاع (بالغ) قيد لهما كما في النهر بحثا (عاقل والمراهق كبالغ) جوهرة (غير مجوسي ولا فاسق ) اھ (2/ 464)۔