السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر اور میں شادی سے پہلے کافی سال سے رابطے میں رہے ،اس دوران وہ کچھ فحش زبانی باتیں بھی کرتے تھے مجھ سے ، جو مجھے قطعاً اچھی نہی لگتی تھیں،لیکن دین کی کمی کی وجہ سے برداشت کرلیں ،پھر چھ سال بعد نکاح ہوگیا لیکن رخصتی نہی ہوئی تھی ، تب بھی انہوں نے کچھ ایسی حرکات کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی جو معاشرتی طور پر رخصتی سے پہلے غیر مناسب سمجھی جاتی ہیں، پھر رخصتی بھی ہوگئی 2017 میں ، اب ایک بیٹا ہے ،وقت کے ساتھ میرا بھی دین کی طرف رجہان بڑھ گیا اور مجھے بے انتہا خوف ہوا کہ میں کتنے بڑے گناہ میں مبتلا تھی ، بہر حال زبانی طور سے میرے شوہر بھی بہت دینی اور تعلیم سے بھی قابل ہیں ،اسی سے متاثر ہوگئی تھی میں ، انکا اٹھنا بیٹھنا اچھے تعلیم یافتہ لوگوں میں ہے لیکن فطرت کی برائیاں تو میں ہی جانتی ہوں ، میں نے شادی کے بعد بہت توبہ کی اور آج بھی کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری نیت دیکھ کر مجھے تو معاف کردے ، اور اپنے شوہر سے بھی کہتی ہوں کہ وہ نکاح سے پہلے والے معاملات کیلئے توبہ کرلیں ، لیکن وہ دینی طور سے بلکل بھی سنجیدہ نہیں ہیں ، میں سمجھا کر تھک گئی ہوں۔ ، اب تو دل کرتا ہے خلع لے لوں لیکن میرے والدین ہی نہی مانیں گے کہ میں واپس جاؤ ں۔ انکے نزدیک تو میرے شوہر بہت نیک اور شریف النفس آدمی ہیں میں کچھ کہوں بھی تو الٹا مجھے ہی سمجھا دیتے ہیں، اور انکی اپنی والدہ بھی اپنے بیٹے کو کچھ نہیں سمجھاتیں ، بلکہ میں کچھ سمجھانا چاہوں تو میری نفی کردیتی ہیں اور انہیں اور شہ مل جاتی ہے ،جب بھی سمجھانا چاہتی ہوں سامنے انکی والدہ یا میرے والدین انکے حمایت میں بولتے ہیں، میں ذلیل ہو کر رہ جاتی ہوں۔ اب بتائیں میں کیا کروں؟ اپنے شوہر کو کیسے راہ راست پر لاؤں یا کیسے برداشت کروں؟ مجھے اپنے بیٹے کی پرورش کی فکر کھاتی ہے۔
سائلہ نے اپنے شوہر کی کوئی ایسی بات نہیں لکھی جس پر غور و فکر کرکے حکم سے آگاہ کیا جائے،تاہم اگر شوہر سائلہ کے حقوق مکمل طور پر اداکرتاہو اور اس کے گناہ وغیرہ سائلہ کی طرف متعدی نہ ہوں ، تو سائلہ کیلئے خلع لینا درست نہیں،البتہ شوہر کی اصلاح کیلئے دعاء اور مناسب تدبیر اختیار کرے،البتہ اگر کوئی اور بات ہو تو وہ تفصیل سے لکھ کر ارسال کردیں جس پر غور و فکر کے بعد جواب دیا جاسکتاہے۔