میرا نکاح 2020 میں تایا زاد کزن سے پنجاب میں ہوا تھا، رخصتی نہیں ہوئی ،اسکے بعد سے اب 2023 تک سسرال اور شوہر نے کوئی رابطہ نہیں، اب میں نے خلع کا کیس دائر کرنا چاہا تو والد مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں، میں اس لڑکے کیساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہتی میر اخلع دائر کرنا جائز ہے ؟
سائلہ نے سوال میں اپنے شوہر سے خلع لینے کی کوئی وجہ ذکر نہیں کی تاکہ اسکے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو سائلہ کیلئے بغیر کسی عذر کے اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، جبکہ شوہر کی اجازت ورضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر خلع لینے کیوجہ سے شر عاًمیاں بیوی کا نکاح بھی ختم نہیں ہوتا، لہذا سائلہ کیلئے بلا کسی عذر کے اپنے شوہر سے خلع لینے سے اجتناب کرنا چاہیے ، تاہم اگر کوئی عذر ہو تو خاندان کے بڑوں کی مشاورت سے اپنے شوہر سے خلع یا طلاق کے ذریعہ علیحد گی حاصل کی جاسکتی ہے۔
كما في أحكام القرآن للجصاص ط العلمية : فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج (إلى قوله) فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلابرضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان اھ(2/239)
و في المبسوط للسرخسي : والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق اھ(6/173)