اگر کوئی عورت شوہر سے بولے مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا اور مرد آگے سے بولے کہ نہیں رہنا تو میں بھی زبر دستی کا رشتہ نہیں رکھنا چاہتا خلع لو اور اپنی مرضی سے زندگی گزارو اور پھر بار بار اُسے بولے کے خلع لو اور جان چھوڑو تو کیا ان الفاظ کے ساتھ طلاق ہو جاتی ہے ؟
سوال میں ذکر کر دہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا ہو اور شوہر نے مذکور جملہ "خلع لو اور اپنی مرضی سے زندگی گزارو ، خلع لو اور جان چھوڑو " کہا ہو جس کے جواب میں عورت نے خلع کی پیشکش قبول نہ کی ہو تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں کا نکاح بر قرار ہے، لہذا دونوں حسب سابق میاں بیوں کی طرح ساتھ رہ سکتے ہیں، البتہ آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
كما في الدر المختار : ازالة ملك النكاح المتوفقة على قبولها بلفظ الخلع أو في معناه(439/3)
وفي بدائع الصنائع :في ترتيب الشرائع :وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون والله اعلم بالصواب القبول(145/3)۔