محترم عرض یہ ہے کہ میری بچی کا نکاح ایک سال پہلے ہوچکا ہے،جبکہ رشتہ کو ہوئے ہیں چھ سال۔
بچی اب تک گھر پر ہے رخصتی نہیں ہوئی ،کیونکہ وہ عالمہ کورس کررہی تھیں ، اب مسئلہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ جس گھر میں بچی کا نکاح ہوا ہے ، بچی اس گھر نہیں جانا چاہتی اور خلع چاہتی ہیں ، جبکہ لڑکے کے لیے دوسری لڑکی دیکھ لی ہے ،لیکن لڑکے کا کہنا ہے کہ میں 4سال سےپہلے اس کو طلاق نہیں دونگا۔
محترم آپ ہماری اس معاملے میں مدد فرمائیں!
واضح ہوکہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے،جس میں جانبین کی رضامندی ضروری ہے،لہذا اگر عدالت سے خلع لینے کی صورت میں شوہر یا اس کے وکیل کی طرف سے رضامندی نہ ہو ، تو ایسی ڈگری جاری ہونے سے نکاح ختم نہیں ہوگا،اس لئے سائل کو چاہیئے کہ لڑکے کو مہر معاف کرکے یا کچھ اضافی رقم کی لالچ دے کر باقاعدہ رضامندی سے خلع یا طلاق حاصل کرلے یا بڑوں کو بٹھاکر مسئلہ حل کریں۔واللہ اعلم