ترجمہ:السلام علیکم:میری بیوی نے عدالت میں خلع کا کیس کیا،مجھے کوئی نوٹس نہیں آیا آخری تاریخ پر مجھے پتہ چلا، میں عدالت میں حاضر ہوگیااور خلع کی کا روائی رک گئی اگلے تاریخ پر گئی، میری بیوی کے وکیل نے کسی دوسرے جج سے خلع کی ڈگری لی مجھے اس وقت پتہ چلا جب جج نے ڈگری جاری کردی کوئی نوٹس نہیں آیا دھوکے سے سب کیا ، رہنمائی فرمائیں کہ اب وہ میری بیوی ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جو عموما ًیکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ اگر سائل کی بیوی نے سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو( جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ) تو یہ خلع شرعا معتبر نہیں، اور اس سے شرعاً ان کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور بر قرار ہے، لہذا دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔
کمافی احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا انھما لايجوز خلعھما الا برضى الزوجین فقال اصحابنالیس للحکمین ان يفرقا الأبرضى الزوجین لان الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وانما الحكمان وكيلان لھما احدهما وكيل المراة والأخر وكيل الزوج في الخلع( إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاء يخرجا المال عن ملكها(2/239)۔
وفي درالمحتار: (قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزاً أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول (3/441)۔