کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک کمپنی جس میں تین شرکاء زید، عمرو، بکر تھے، زید کا انتقال 2017 ء میں ہوا، جن کے دو بیٹے، ایک بیٹی اور بیوہ تھی، ورثہ نے کاروبار کو بر قرار رکھا، لیکن بیٹوں نے یہ سوچ کر کہ ہم اپنی بہن کا حصہ جو وراثت میں بنتا ہے دے کر اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتے ہیں، کیونکہ زندگی و موت کا کچھ علم نہیں، چونکہ بیٹوں کے پاس نقد رقم نہیں تھی تو بیٹوں نے اپنی بہن کا وراثت میں جتنا حصہ بنتا تھا، اس کا حساب لگا کر کمپنی کو اتنی رقم ادھار دینے کی درخواست کی کہ بعد میں بیٹے کاروبار سے ملنے والے نفع وغیرہ سے کمپنی کو ادھار کی رقم ادا کر دینگے، مذکور درخواست دینے کے بعد زید کے دیگر شرکاء عمرو، بکر نے زید کے بیٹوں کو یہ مشورہ دیا کہ آپ رقم دینے کے بجائے اپنی بہن کو کوئی فلیٹ و غیرہ لے کردید و تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہو گا، اب مذکور کمپنی کا چونکہ پراپرٹی کاکاروبار بھی تھا تو بیٹوں نے کمپنی سے ادھار رقم لے کر کمپنی ہی کے دو فلیٹ خرید کر بہن کو اس کے وراثت میں میں آنے والے حصہ کے عوض دے دیئے، اور جو مزید رقم اس کے حصے کی رہ گئی وہ نقد ادا کر دیے گئے، عرصہ تقریباً پانچ سال سے بہن ان فلیٹس سے آنے والا کرایہ بھی وصول کرتی رہی۔
اب سال 2022 ء میں کمپنی ٹوٹ گئی ہے، جس میں سے تمام شرکاء کوان کے حصے ملنے ہیں، لیکن شرکاء عمرو، بکر ،زید کی اولاد سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پانچ سال قبل جو رقم مثلاً پچاس ہزار فلیٹس کی خریداری کے لۓ جو ادھارلی گئی تھی، اب تو اس کی رقم کی ویلیو میں بہت فرق آچکا ہے، اس لۓ مذکور فلیٹس کی آج کی مارکیٹ ویلیو لگا کر جو قیمت ان کی بنتی ہے، ادھار کی مد میں وہ قیمت کمپنی کو دینی ہو گی۔
سوال یہ ہے کہ شرکاء عمرو، بکر کا مذکور دعویٰ کرنا شرعا درست ہے؟ ادھار میں اس وقت کی لی ہوئی رقم کی ادائیگی کس اعتبار سے کرنالازم ہو گا؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ شرکاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ فلیٹس، اگر پانچ سال کمپنی کی ملکیت میں رہتے تو اس سے حاصل ہونے والا کرایہ کمپنی کو وصول ہوتا، لیکن یہ جگہ پانچ سال چونکہ آپ کے بہن کے پاس رہی تو کرایہ اسے وصول ہوا ہے، لہذا زید کے دونوں بیٹے ادھار میں لی ہوئی رقم سمیت پانچ سال کا کرایہ بھی کمپنی کو لوٹائیں گے تو زید کے دونوں بیٹوں پر مذکور پانچ سال کا کرایہ دینا لازم ہے یا نہیں ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں درجِ بالا سوالات کے جوابات دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔
نوٹ: مذکور کاروبار برقرار رکھنے کی صورت یہ ہوئی تھی کہ زید کی وفات کے بعد شرکاء ( عمرو، بکر) اور زید کے بیٹے وغیرہ آپس میں بیٹھے اور زبانی کلامی یہ بات ہوئی کہ عمرو، بکر نے زید مرحوم کے بیٹوں سے کہا کہ اگر آپ نے مذکور کاروبار سے والد کی وفات کے بعد حصہ لینا چاہتے ہو تو ہم آپ کا حصہ دیکر کاروبار سے علیحدہ کر دیتے ہیں، لیکن اگر آپ اسی ماڈل اور معاہدات پر جس پر آپ کے والد صاحب مرحوم کاروبار کرتے تھے شرکت کو بر قرار رکھنا چاہتے ہیں تو آپ اپنے خیالات کا اظہار کر دیں تو زید کے بیٹوں نے باہمی رضامندی سے جواب دیا کہ ہم اپنا حصہ نہیں نکالنا چاہتے، بلکہ ہم سابقہ ماڈل ہی پر شرکت بر قرار رکھتے ہیں، جس پر سب کا اتفاق ہوا اور اب تک اسی سابقہ ماڈل پر کاروبار چلتا رہا ہے، لیکن یادر ہے کہ اس معاہدہ کے لکھت پڑھت نہیں ہوئی، بلکہ فقط زبانی کلامی بات ہوئی تھی۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ زید کی وفات کے بعد جب شرعی اعتبار سے سابقہ شراکت کا معاملہ ختم ہو چکا تھا، جس کے بعد کمپنی کے باقی شرکا، (عمرو، بکر) نے زید کے بیٹوں کے ساتھ نئی شراکت کا معاہدہ کر لیا تھا، تو شراکت داری دوبارہ بحال ہو گئی تھی، نئی شراکت داری شروع ہونے کے بعد زید کے بیٹوں نے اپنی بہن کو اس کا وراثتی حصہ دینے کی غرض سے کمپنی سے کچھ رقم بطورِ قرض لے کر کمپنی ہی کے دو (2) فلیٹ خرید کر اپنی بہن کو اس کی وراثتی حصہ کی مد میں دیدیئےہوں، تو اس طرح کرنے سے شرعاً زید کی بیٹی مذکور دونوں فلیٹوں کی مالک بن چکی ہے، چنانچہ مذکور فلیٹوں سے عرصہ پانچ سال کے دوران جو کرایہ حاصل ہوا ہے وہ زید کی بیٹی ہی کا حق ہے، کمپنی کے شرکاء کے لۓ زید کے بیٹوں یا بیٹی سے مذکور فلیٹوں کے کرایہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں، اسی طرح زید کے بیٹوں نے جتنی رقم کمپنی سے بطورِ قرض لی تھی، اب کمپنی تحلیل ہونے کے بعد زید کے بیٹوں کے ذمہ اتنی ہی ر قم جتنی کہ اپنے شرکاء سے قرض لی تھی اپنی شراکتی حصہ سے منہا کر نالازم ہے، چنانچہ دیگر شرکاء (عمرو، بکر) کے لۓ فلیٹوں کی موجودہ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنا درست نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما في اللباب في شرح الكتاب: وإذا مات أحد الشريکین أو إرتد و لحق بدار الحرب بطلت الشركة اھ (ص:237)۔
وفي الدر المختار: (فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقاربا فصح استقراض جوز وبيض) وكاغد عددا (ولحم) وزنا وخبز وزنا وعددا كما سيجيء (استقرض من الفلوس الرائجة والعدالي فكسدت فعليه مثلها كاسدة) و (لا) يغرم (قيمتها) وكذا كل ما يكال ويوزن لما مر أنه مضمون بمثله فلا عبرة بغلائه ورخصه ذكره في المبسوط من غير خلاف اھ (5/ 162)۔
وفيه أیضاً: ومحله المال. وحكمه ثبوت الملك اھ (4/ 506)۔
وفي رد المحتار: (قوله: وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي، والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن، ووجوب استبراء الجارية على المشتري، وملك الاستمتاع بها، وثبوت الشفعة لو عقارا، وعتق المبيع لو محرما من البائع بحر، وصوابه من المشتري اھ (4/ 506)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0