کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمیٰ طاہر اور اظفر نے ایک کمپنی کھولی، پہلے یہ کمپنی اظفر چلا رہا تھا، لیکن اس سے مصروفیات کی بناء پر کمپنی نہیں چل رہی تھی، اس نے مجھے کہا کہ یہ کمپنی آپ اپنے ذمہ لے لو، اب ہمارا آپس میں طے یہ ہوا کہ زیادہ محنت میری ہوگی، باقی وہ بھی دیگر معاملات میں میرا ساتھ دے گا، جبکہ 70 فیصد نفع میرا ہوگا ،زیادہ محنت کی وجہ سے، باقی 30 فیصد نفع اظفر کا ہوگا ، یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ ہماری انویسمنٹ 50 ، 50 فیصد ہے، اب مطلوب امر یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ مستقبل میں ہمارا نقصان ہوا ،تو وہ کس حساب سے تقسیم کیا جائے گا، 70 اور 30 فیصد کے اعتبار سے یا 50 فیصد کے اعتبار سے؟ اسی طرح کمپنی کے جو شئیرز ہیں ،وہ کس حساب سے تقسیم ہوں گے، 70 اور 30 فیصد کے اعتبار سے یا 50 فیصد کے اعتبار سے؟ اسی طرح کمپنی کا جو مال ہے ، ہمارے الگ ہونے کی صورت میں کس حساب سے تقسیم کیا جائے گا، 70 اور 30 فیصد کے اعتبار سے یا 50 فیصد کے اعتبار سے؟
اسی طرح کمپنی کی جو ورتھ ہے، وہ 10لاکھ کی ہوگئی اور اگر ہماری انویسمنٹ ایک ایک لاکھ ہے تو باقی آٹھ لاکھ کس طرح تقسیم ہوں گے، 70 اور 30 فیصد کے اعتبار سے یا 50 فیصد کے اعتبار سے؟ اور اسی طرح مستقبل میں کمپنی کے نام کی کیا ویلیو ہوگی، وہ کس حساب سے تقسیم ہوگی؟ کیونکہ کمپنی میرے نام رجسٹرڈ ہے۔
واضح ہو مشترکہ کاروبار میں منافع باہمی رضامندی سے کچھ بھی طے کیا جاسکتا ہے، البتہ نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے ذمہ دار ہوگا، چنانچہ نقصان ہوجانے کی صورت میں اس نقصان کو پہلے منافع میں سے پورا کیا جائے گا، اگر منافع میں سے نقصان پورا ہوجائے تو ٹھیک، ورنہ ہر شریک اپنے اصل سرمایہ کے حساب سے نقصان کا ذمہ دار ہوگا، مذکور بالا تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں مسمیٰ محمد طاہر اور مسمیٰ محمد اظفر نے منافع کی جو تقسیم باہمی رضامندی سے طے کی ہے، وہ درست ہے، چنانچہ منافع تقسیم کرنے کی صورت میں مسمیٰ محمد طاہر ستر فیصد ، جبکہ محمد اظفر تیس فیصد نفع کا حقدار ہوگا، اسی طرح پارٹنرشپ ختم کرنے کی صورت میں پہلے منافع طے شدہ تناسب سے دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا اور اصل سرمایہ برابر برابر تقسیم ہوگا، جبکہ کمپنی کے شیئرز بھی مذکورہ بالا طریقہ سے تقسیم ہوں گے، البتہ نقصان کی صورت میں پہلے اس کو منافع میں سے پورا کیا جائے گا، اگر نقصان منافع میں سے پورا نہ ہوا تو پھر دونوں پارٹنرز اپنے اصل سرمایہ کے حساب سے اس نقصان کے ذمہ دار ہوں گے، اسی طرح اگر کمپنی کی باقاعدہ رجسٹریشن کسی ایک شریک نے اپنے ذاتی پیسوں سے کروائی ہو تو تقسیم کی صورت میں مذکور شریک اپنے سرمایہ کے اعتبار سے گڈول میں سے حصہ لے لے اور اگر دونوں پارٹنرز نے کمپنی کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لئے سرمایہ لگایا ہو تو تقسیم کے وقت اس کو بھی آپس میں سابقہ شرائط کے مطابق یا توسرمایہ کے اعتبار سے تقسیم کرلیں یا جو فیصد ( 70 اور 30 ) باہمی رضامندی سے طے کی تھی، اس اعتبار سے تقسیم کرلیں۔
کما فی بدائع الصنائع: وإن شرطا العمل على أحدهما، فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح؛ جاز، والربح بينهما على الشرط فيستحق ربح رأس ماله بماله والفضل بعمله، وإن شرطاه على أقلهما ربحا لم يجز؛ لأن الذي شرطا له الزيادة ليس له في الزيادة مال. ولا عمل ولا ضمان؛ وقد بينا أن الربح لا يستحق إلا بأحد هذه الأشياء الثلاثة الخ( کتاب الشرکۃ ج 6 ص 63 ط: سعید )۔
وفی رد المحتار: قلت: وحاصل ذلك كله أنه إذا تفاضلا في الربح، فإن شرطا العمل عليهما سوية جاز: ولو تبرع أحدهما بالعمل وكذا لو شرطا العمل على أحدهما وكان الربح للعامل بقدر رأس ماله أو أكثر ولو كان الأكثر لغير العامل أو لأقلهما عملا لا يصح وله ربح ماله فقط الخ( ج 4 ص 312 ط: سعید )۔
وفی الرد المختار: وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة الخ( ج 4 ص 518 ط: سعید )۔
وفی فقہ البیوع: و یبدو لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ أن حق الاسم التجاری و العلامات التجاریۃ، و ان کان فی الأصل حقا مجردا غیر ثابت فی عین قائمۃ، و لکنہ بعد التسجیل الحکومی الذی یتطلب جھدا کبیرا و بذل اموال جمۃ، و الذی تحصل لہ بعد ذلک صفۃ قانونیۃ تمثلھا شھادات مکتوبۃ بید الحامل و فی دفاتر الحکومۃ، أشبہ الحق المستقر فی العین، و التحق فی عرف التجار بالأعیان، فینبغی أن یجوز الاعتیاض عنہ علی وجہ البیع أیضا.( ج1 ص 277 ط: معارف القرآن)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0