کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بھابھی سے نکاح کیا، اس کی دو اولاد یں تھی، ایک بیٹا اور ایک بیٹی، میں نے دونوں کی پر ورش کی تعلیم اور شادی وغیرہ پر اخراجات کئے، تو اس وجہ سے میں نے بھتیجے کو اپنے ساتھ دکان میں رکھ کر کام سکھایااور مستری بنایا، ان کے ساتھ معاوضہ کی کوئی بھی بات نہیں ہوئی تھی، کیونکہ وہ مجھ سے کام سیکھتا رہاہے، اور اب وہ مجھ سے علیحدگی چاہتا ہے، اور دکان میں حصہ کا مطالبہ کررہاہے، تو کیا شرعی طور پر میری دکان میں اس کا کوئی حق بنتا ہے یا نہیں؟
نوٹ: کچھ عرصہ وہ میرے ساتھ بطور شاگرد کا م دسیکھتا رہا، اور اس کے بعد تقریباً پانچ سال میرے ساتھ بطور مکینک وکاریگر بھی کام کرتا رہا ہے، لیکن اس دوران بھی تنخواہ اور معاوضہ کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی، تو کیا اس مدت کی تنخواہ مجھ پر ادا کرنا لازم ہوگی؟ اگر ہوگی تو کس ترتیب سے؟ جوبھی حکم شرعی ہو تحریر فرمائیں۔ جزاکم اللہ
صورت مسئولہ میں سائل کے ذاتی سرمایہ اور محنت سے بنائی گئی دکان میں تو سائل کے مذکور بھتیجے کا شرعاً کوئی حصہ نہیں، اور نہ ہی انہیں اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے، اس لئے اسے اپنے اس غیر شرعی مطالبہ سے اجتناب لازم ہے، البتہ جتنا عرصہ اس نے بطور کاریگر سائل کے ساتھ کام کیا ہے، اور دکان سنبھالی ہے، تو اگر اس سے متعلق فریقین (چچا، بھتیجا) کے مابین کام کرنے کا کوئی معاوضہ طے نہ پایا ہو، بلکہ اس دوران یہ بھتیجابھی سائل کی دیگر اولاد کی طرح اس کے زیر کفالت رہا ہو، اس دوران اس کے تمام تر اخراجات سائل ہی برداشت کرتا رہا ہو،تو ایسی صورت میں یہ سائل کا معاون شمار ہوکر اس عرصہ کی اجرت و تنخواہ کا بھی حقدار نہ ہوگا، تاہم اگر سائل اس مدت کی خدمت گزاری کی بنا پر اسے کچھ رقم وغیرہ دینا چاہے، تو اس کا اسے اختیار ہے، اور یہ اس کی طرف سے بھتیجے پر تبرع واحسان ہوگا۔
کما فی الھندیۃ: ولو كان للرجل امرأتان ولكل واحدة منهما ابن من غيره يسكن معهما فهما في عياله لا يضمن، كذا في الظهيرية الخ (ج4 صـ340 کتاب الودیعۃ الباب الثاني في حفظ الوديعة بيد الغير ط: دار الفکر)۔
وفی الفتاوی الخیریۃ:(سئل) فی رجل مات عن ابن کبیر وابنین صغیرین لاعن ترکۃ فربا ھما الکبیر ونشأ فی خدمتہ ومن حملۃ عائلتہ مع ابنہ المقارب لھما فی السن وحصلوا جمیعا بالکسب والعمل مالا ولم یکن لھم مال واختلفوا فیہ فالکبیر یدعیہ کلہ لنفسہ وانھم کانو معینین لہ بالعمل وابنہ ربعہ بعملہ واخواہ یدعیان ثلثیہ بعملھا وان ابنہ لاحصۃ لہ معھما لکونہ معین والدہ فما الحکم فی ذلک (اجاب)ان ثبت کون ابنہ واخویہ عائلتھما علیہ وامرھم فی کل مایفعلونہ الیہ وھم معینون لہ فالمال کلہ لہ والقول قولہ فیما لدیہ بیمینہ ولیتق اللہ فالجزاء امامہ وبین یدہ، وان لم یکونوا بھذا الوصف بل کان مستقلا بنفسہ واشترکوا فی الاعمال فھو بین الاربعۃ سویۃ بلا اشکال، وان کان ابنہ فقط ھو المعین والاخوۃ الثلاثۃ بانفسھم مستقلون فھو بینھم اثلاثا بیقین والحکم دائر مع عائلتہ باجماع اھل الدین الحاملین لحکمتہ. (ج2 صـ52)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0