میرا شوہر ۴ سال سے باہر ملک میں قید ہے سزا ۱۵ سال ہے، میں نے خلع لے لی ہے، وہ چار سال سے مجھ سے نہیں ملا، میری عدت کتنے ٹائم ہے مفتی صاحب؟ ایک بہت اچھا رشتہ ہے ڈر ہے یہ رشتہ رہ نہ جائے.
واضع ہو کہ خلع بھی دیگر عقود ِمالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے جو کہ عموماً عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے،چنانچہ ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ بر ستور برقرار رہتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ نے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر کورٹ سے یک طرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو تو اس کی وجہ سے شرعا سائلہ کا نکاح ختم نہیں ہوا ، بلکہ بد ستور برقرار ہے ، لہذا سائلہ کا مذکور خلع کی ڈگری کو بنیاد بناکر دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً درست نہیں، البتہ اگر سائلہ نے شوہر یا اس کے مقرر کردہ وکیل کی اجازت و رضامندی سے خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو ایسی صورت میں شرعاً یہ خلع معتبر ہوگا ،اور اس سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو چکی ہے، لیکن اس دوسری صورت میں بھی اگر نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان صحبت (ہمبستری) یا خلوت ِصحیحہ ہو چکی ہو،تو اگرچہ سائلہ اپنے شوہر سے عرصہ چار سال سے علیحدہ ہے،تب بھی شرعاسائلہ کے ذمہ عدت گزار نا لازم اور ضروری ہوگا۔
کما فی أحكام القرآن للجصاص : فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج(الی قولہ)فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف یملکہ الحکمان۔اھ(2/ 239)۔
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق(6/ 173)۔