اسلام علیکم ورحمتہ اللہ !میرا نام عادل ہے میرا نکاح 17 اپریل 2023 یعنی 27 رمضان میں ہوا تھا رخصتی ابھی باقی ہے نکاح کے 13 دن بعد پتہ نہیں کیا ہوا میرے سسرال والوں نے رخصتی دینے سے انکار کردیا اور کہا ہمیں خلع چاہیے جب میں نے دینے سے منع کیا اور وجہ جاننی چاہی تو انہوں نے کہا ہم آپکو بتانے کے پابند نہیں ہم کورٹ سے خلع لےلیںگے اور کورٹ میں الزام لگایا کہ میں نشہ کرتا ہوں اور غصہ کرتا ہوں اور میں نے لڑکی اور اسکے والدین کو گالیاں دیں اور دھمکی دی ہے کہ میں انکو رخصت کر کے نہیں لے جاوں گا اس لیے مجھے کورٹ خلع دے ،پر میں کورٹ نہیں جا رہا میری غیر موجودگی میں کورٹ نے 25 جولائی کو کلامی طور پر کہا خلع ہوگئی آپ کی ، اب سوال یہ ہے کہ میری غیر موجودگی میں اور میری رضامندی اور سائین کےبغیر کیا خلع واقع ہوگئی جبکہ میں نہیں چاہتا ہم الگ ہوں ؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقدہے،جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے،جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتا ہے،چنانچہ سائل یا اس کے وکیل نےاگر عدالت میں حاضر ہو کر خلع کے پیپرز پر دستخط کرکے رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو تو یکطرفہ خلع کی ڈگری شرعاً معتبر نہیں،بلکہ اس ڈگری کے جاری ہونے کے باوجود شرعاً سائل کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور برقرار ہے،لہذا سسرال والوں کا مذکور ڈگری کی بنیاد پر سائل کی منکوحہ کا کسی دوسری جگہ نکاح کرانا شرعاً جائز نہیں ،اس لئے سائل کے سسرال والوں کا اس سے احتراز لازم ہے۔
لما فی رد المحتار: وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة ولايستحق العوض بدون القبول۔(3/441)
و فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول،لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول۔(كتاب الطلاق، فصل فى ركن الطلاق،3/145)