میرا نام ظہیر احمد ولد عبدا لکمال ہے، میں اورنگی ٹاؤن میں رہتا ہوں ، مکان نمبر 734 ،محلہ غازی آباد ، اورنگی ٹاؤن ، سیکٹر 11/12کراچی ۔
جناب علماءِکرام حضرات! میرا نکاح 20/10/01 کو ہوا تھا ، "سونیا بنتِ مراد "سے ،جو ہمارے گاؤں کے رہنے والے ہیں، خون کا رشتہ کوئی نہیں، وقتاً فوقتاً ہم ان کے گھر ملنے جاتے تھے ,اور میرے نکاح کے مہر کی رقم چھ تولہ سونا اور دو کمرے کا مکان لکھا تھا ، ابھی کچھ دن پہلے 10 اگست 2013 کی صبح میرے نمبر پر اور میرے بھائی اور بہن کے نمبر پر سونیا بنتِ مراد نے ہمیں خلع کی درخواست بھیجی جو 2022/10/03 کو کورٹ سے خلع کی درخواست دی اور ہمیں وصول تک نہیں ہوئی ،اُس میں گھر کا ایڈرس بھی غلط ہے، اور جب ملا WhatsApp سے کہ خلع لے لیا گیا، جس کا ہمیں علم تک نہیں، نہ کوئی درخواست ہمیں وصول ہوئی ، لہٰذا آپ رہنمائی کریں کہ یہ خلع ہو گیا یا نہیں ،یہ لڑکی اب بھی میرے نکاح میں ہے یا نہیں، رہنمائی کریں مجھے آگے کیا کرنا چاہیئے ، ہم ان لڑکی والوں کے گھر بھی گئے تھے، انہوں نے ہمیں کہا کہ خلع ہو گیا ہے، اپنا سامان سوٹ کیس لے کر جائیں، اور دوسرا جو کورٹ میں انہوں نے بتایا ہے ،اُس میں ذرا برابر بھی حقیقت نہیں، نہ لڑکے کا دماغی توازن خراب ہے، نہ وہ نشہ کرتا ہے،اور نہ اُن کے گھر میں جا کر ٍلڑائی کی ہے، لہٰذا آپ رہنمائی کریں ،شکریہ
نوٹ: خلع کی ڈگری اور اسکا ترجمہ منسلک ہے۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِمالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کی صحت کیلئے فریقین(میاں بیوی) کی باہمی رضا مندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً عدالتی خلع میں مفقود ہوتی ہے، جسکی وجہ سے ایسی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا ،بلکہ حسبِ سابق قائم رہتا ہے -
لہذا صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ,اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر سائل کی بیوی نے یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو اس سے شرعاً دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ حسب سابق برقرار ہے ، لہذا ایسی ڈگری کو بنیاد بنا کر سائل کی بیوی دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی، البتہ دونوں میاں بیوی کو چاہیئے کہ افہام و تفہیم سے غلط فہمیاں دور کر کے اپنے گھر کو بسانے کی فکر کریں،تاہم اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود نباہ کی کوئی صورت نہ ہو سکے تو باقاعدہ طلاق یا خلع کے ذریعہ علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔
کما فی احكام القرآن للجصاص : قال أصحابنا انھمالايجوز خلعھما الأبرضى الزوجين فقال اصحابنا ليس للحكمين ان يفرفا الأبرضى الزوجين لان الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان و انما الحكمان وكيلان لھما احدهما وكيل المراة و الأخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) و كيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاہ و يخرجا المال عن ملكها اھ (2 /239)-
و في المبسوط للسرخسي :(قال)و الخلع جائز عند السلطان و غيره ،لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود ، و هو بمنزلة الطلاق بعوض و للزوج ولاية إيقاع الطلاق اھ (6/173)-
و فی الھندیۃ : إذا تشاق الزوجان و خافا أن لا يقيما حدود الله ، فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة و لزمها المال ،كذا في الهداية(1/488)-