ہم نے اپنی بہن کیلئے عدالت میں حاضر ہوکر خلع کا کیس دائر کیا، جج نے چھ بار شوہر کو عدالت میں حاضر ہونے کا سمن (نوٹیفیکیشن) جاری کیا، (تفصیل منسلکہ خلع نامہ میں موجود ہے) اور ایک بار نوٹس ہاتھ میں دیا اور دو بار کورٹ نے نوٹس گھر کی دیوار پر لگایا، اور اخبار میں بھی شائع کیا، لیکن وہ صحیح تاریخ پر عدالت میں حاضر نہیں ہوا تو عدالت نے اپنے اختیارات کے مطابق نکاح فسخ کرکے خلع کا فیصلہ سنا دیا، دیگر کیس کورٹ میں چل رہا ہے اور اب وہ ہر تاریخ پر کورٹ بھی آتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے طلاق واقع ہوگئی ؟ اب کیا دوسرا نکاح کیا جا سکتا ہے؟ براہِ کرم مفتیان حضرات کی رائے اور دینِ اسلام کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں!شکریہ والسلام۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر یا اسکی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے خلع کے کاغذات پر دستخط نہ کیے ہوں، بلکہ عدالت نے شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ مذکور خلع کی ڈگری جاری کی ہو تو اس ڈگری کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، اسکی وجہ سے سائل کی بہن کا نکاح ختم نہیں ہوا، لہذا اس خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر سائل کی بہن کیلئے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا درست نہ ہوگا، البتہ اگر سائل کا بہنوئی واقعۃً بیوی کو نان نفقہ دینے کیلئے آمادہ نہ ہو اور ہر ممکن کوشش کے باوجود اُنکا حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئے اس رشتۂ نکاح کو برقرار رکھنے میں مشکل ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں عدالت میں نان نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر خلع کے بجائے "فسخِ نکاح" کی درخواست جمع کرائی جائےاور قاضی (جج) تنسیخِ نکاح کی ضروری کاروائی کے بعد اگر فسخِ نکاح کی ڈگری جاری کر دے تو یہ ڈگری شرعاً بھی معتبر ہوگی، اور اس ڈگری سے طلاقِ بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہو جائیگا، لہذا عدت کے بعد سائل کیلئے اپنی بہن کا دوسری جگہ نکاح کرانا درست ہوگا۔
کما فی رد المحتار: (قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فھو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع وإن لم تقبل لأنه طلاق بلا عوض فلا يفتقر إلى القبول۔اھ (3/441)۔