میرا نام مبین صدیقی ہے،میری شادی کو دس مہینہ ہوئے ہیں،میری بیوی پانچ مہینوں سے والدہ کے گھر روٹھ کر گئی ہوئی ہے،اچانک ان کے رشتہ داروں سے پتا چلا کہ اس نے خلع لے لیا ہے،مجھے کورٹ کی طرف سے کوئی نوٹس وغیرہ نہیں ملا،ابھی بیس دن ہوئے ہیں میں نے ان کے اکاؤنٹ میں بیس ہزار روپے بھیجے ہیں،یہ کیسا خلع ہے،مجھے کوئی فتوی مل سکتاہے؟اس حوالے سے کہ خلع نہیں ہوا،ان کے گھر والوں نے عدت میں بھی بٹھادیا ،وہ پریگنینٹ بھی ہےابھی ڈیڑھ مہینہ رہتاہے۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جسکی صحت کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے جو کہ عدالتی خلع کی یکطرفہ دیگریوں میں عموما یہ شرط مفقود ہوتی ہے جسکی وجہ سے ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجو د شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا بلکہ حسب سابق قائم رہتا ہے، اس لیےمحض اس ڈگری کوبنیاد بناکر کسی دوسری جگہ نکاح کرنا درست نہیں۔
تاہم اگراس کورٹ کیس کی مکمل تفصیل کسی قریبی دارالافتاء میں جمع کرکے خاص اس سے متعلق حکم شرعی معلوم کرلیاجائے، تو یہ زیادہ بہترہے۔
کما في المبسوط لشمس الدين السرخسي :
(قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره لانه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود وهو منزلة الطلاق الخ ( ج: 1 ص: ١٣)-