کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل کچھ لوگ قبروں پر اللہ تعالیٰ کے نام یا کوئی آیت کریمہ وغیرہ لکھ کر لگا لیتے ہیں اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ لکھی ہوئی تختیاں وغیرہ زمین پر گر جاتی ہیں جو اکثر و بیشتر انسانوں اور جانوروں کے پاؤں کے نیچے آجاتی ہیں۔
مفتی صاحب! پوچھنا یہ ہے کہ قبروں پر اس طرح کی تختیاں لگانا کیسا ہے ؟ اور جس وقت ٹوٹ کر گر جائیں تو ان کی حفاظت کا شرعی طریقہ کار کیا ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔
بوقتِ ضرورت قبر پر تختی لگانے اور اس پر نام اور تاریخ وفات وغیرہ لکھنے کی تو شرعاً گنجائش ہے، البتہ اس پر اللہ تعالیٰ کے نام یا آیت کریمہ وغیرہ لکھنے میں چونکہ بے ادبی کا اندیشہ ہے، لہٰذا اس سے احتراز چاہیے، جبکہ اگر کسی قبر پر قرآنی آیات پر مشتمل تختیاں لگائی گئی ہوں اور وہ ٹوٹ کر گر جائیں تو کسی طرح ادب واحترام کے ساتھ وہ یا مٹی میں دفن کی جائیں یا کسی محفوظ مقام پر رکھی جائیں، تاکہ وہ بے ادبی سے محفوظ رہیں۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله لا بأس بالكتابة إلخ) لأن النهي عنها وإن صح فقد وجد الإجماع العملي بها، فقد أخرج الحاكم النهي عنها من طرق، ثم قال: هذه الأسانيد صحيحة وليس العمل عليها، فإن أئمة المسلمين من المشرق إلى المغرب مكتوب على قبورهم، وهو عمل أخذ به الخلف عن السلف اهـ ويتقوى بما أخرجه أبو داود بإسناد جيد «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - حمل حجرا فوضعها عند رأس عثمان بن مظعون وقال: أتعلم بها قبر أخي وأدفن إليه من تاب من أهلي» فإن الكتابة طريق إلى تعرف القبر بها، نعم يظهر أن محل هذا الإجماع العملي على الرخصة فيها ما إذا كانت الحاجة داعية إليه في الجملة كما أشار إليه في المحيط بقوله وإن احتيج إلى الكتابة، حتى لا يذهب الأثر ولا يمتهن فلا بأس به. فأما الكتابة بغير عذر فلا اهـ حتى إنه يكره كتابة شيء عليه من القرآن أو الشعر أو إطراء مدح له ونحو ذلك حلية ملخصا. اھ (2/ 237)