ترجمہ:السلام علیکم! حضرت میری بیٹی کا نکاح ہوگیا ہے، رخصتی نہیں ہوئی، لڑ کا دبئی میں ہے، 2022 میں نکاح ہوا تھا، دو مہینے کے بعد رخصتی تھی، لڑکا دبئی میں پکڑا گیا ہے، ہمیں بتا نہیں رہا کہ کب آئے گا، ایک سال سے زائد ہو گیا ہے اور ابھی بھی کچھ پتہ نہیں، حضرت آپ سے فتویٰ لینا ہے،اگر ایسی صورت ہو تو کیا خلع لیا جا سکتا ہے؟رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کی صحت کیلئے فریقین(میاں بیوی) کی باہمی رضا مندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے، جو کہ عموماً عدالتی خلع میں مفقود ہوتی ہے،چنانچہ سائلہ کی بیٹی کیلئے عدالت سے یک طرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرنا درست نہ ہوگا اور اسکی وجہ سے شرعاً میاں بیوی کا نکاح ختم نہ ہوگا، لہٰذا سائلہ کو چاہیئے کہ لڑکے کے اہلِ خانہ یا دیگر ذرائع سے لڑکے کے متعلق معلومات لےکر لڑکے کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی جائے، چنانچہ اگر لڑکے سے کسی طرح رابطہ ہو جائے اور فوری طور پر اسکی رہائی کی کوئی ترتیب نہ ہو اور شادی کے بغیر رہنے کی صورت میں سائلہ کی بیٹی کو گناہوں میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر کو کسی طرح راضی کرکے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
کما فی احكام القرآن للجصاص : قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان و إنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة و الآخر وكيل الزوج في الخلع (الی قولہ) و كيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه و يخرجا المال عن ملكها اھ (3/153)۔
و في التاتارخانية : الخلع عقد يفتقر الى الإيجاب و القبول يثبت الفرقة و يستحق عليها العوض اھ (3/453) ۔