السلام علیکم ! مجھے عدالتی خلع پر فتویٰ درکار ہے، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری بیوی سمجھتی ہے کہ میں اسے سہی سے وقت اور محبت نہیں دیتا اور ہمارے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہیں، وہ انہی باتوں کی وجہ سے چرچری بد زبان ہوگئی اور ہمارے درمیان اکثر بحث کا باعث بنتی ہے ، میری ڈھائی سال کی شادی میں اور میرے محتاط اندازے کے مطابق وہ 10-15 دفعہ اپنے میکے جاچکی ہے، میں ہمیشہ اسے مناکر گھر لاتا اور بچے کا خرچ جو اس دوران میں ہوا ہوتا وہ ادا کرتا، اب معاملہ ایسا ہے کے 4 مہینے ہونے کو آئے اور وہ اپنے میکے میں ہے اور طلاق کا مطالبہ کیا ہے جس پر میں رضامند نہیں اور صرف معاملے کو ٹالنے کی غرض سے میں نے انہیں عدالت سے رجوع کرنے کو کہا، اس کے فورا" بعد ہی میں نے عدالت میں 'حق زن اشوئی' کا دعویٰ بھی کردیا مگر بیوی واپس آنے پر راضی نہیں، اب وہ عدالتی خلع لے رہی ہیں جس پر میں متفق نہیں اور عدالت میں بھی بتاچکا ہوں کہ میں رضامند نہیں اور نہ ہی میرے دستخط ہونگے کیونکہ ایسی کوئی وجہ نہیں جس پر ہم اس مقدّس رشتے کو ختم کریں ، سب سے بڑھ کے یہ کہ میرا بیٹا باپ کی شفقت سے محروم اور ہمیشہ کی احساس محرومی سے دو چار ہوجائیگا ، آپ حضرات فرمائیں کہ کیا یہ خلع شرعاً جائز ہوگا ؟ شکریہ۔
سائل اگر اپنی بیوی کے حقوق پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کررہا ہو ،تو سائل کی بیوی کا بغیر کسی عذر کے سائل سے طلاق کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں احادیثِ مبارکہ میں ایسی خاتون کے متعلق جو بلا کسی عذر کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،لہذا سائل کی بیوی کو چاہیے کہ بلا کسی عذر اپنے شوہر سے طلاق اور خلع کا مطالبہ کرنے کے بجائے شوہر کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرکے گھر بسانے کی کوشش کرے ۔
جبکہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کی صحت کیلئے فریقین کی باہمی رضا مندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً عدالتی خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتی ہے،جس کی وجہ سے ایسی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا ، بلکہ حسب سابق برقرار رہتا ہے،لہذا اگر سائل کی بیوی سائل اور اس کے مقرر کردہ وکیل کی اجازت کے بغیر عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کرلے تو اس سے شرعاً نکاح ختم نہ ہوگا ،بلکہ حسبِ سابق برقرار رہے گا ،لہذا سائل کی بیوی کیلئے یکطرفہ خلع کی ڈگری کی بنیاد پر دوسری جگہ نکاح کرنا بھی شرعاً جائز نہ ہوگا ۔
کما فی سنن ابی داؤد : عن ثوبان قال : قال رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ و سلم۔ایما امراۃ سالت زوجھا طلاقاً فی غیر ما باس ، فحرام علیھا رائحۃ الجنۃ (2/268)۔
و فی الشامیة: و اما رکنہ فھو کما فی البدائع : اذا کان بعوض ، الایجاب و القبول لانہ عقد علی الطلاق بعوض فلاتقع الفرق و لایستحق العوض بدون القبول اھ (3/441)۔