کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بیٹے کا نکاح 2021ء میں ہوا تھا، اس نکاح سے ایک بیٹا بھی ہے، میری بہو شادی کے چھ مہینے کے بعد سب کی رضامندی سے خوشی خوشی اپنے والدین کے گھر کراچی آئی اور کچھ ہی عرصہ کے بعد ہمیں پیغام دیا کہ لڑکی واپس شوہر کے گھر نہیں آسکتی آپ لوگ بھی لینے کے لئے نہ آئیں اور پھر عدالت سے خلع کا نوٹس ملا جس پر میرا بیٹا کراچی آیا عدالت میں پیش ہوا ، لڑکی کے سارے الزامات کو جھٹلایا اور جج کو کہا کہ یہ میری بیوی ہے نہ طلاق دیتا ہوں نہ خلع بلکہ میں اس کو ساتھ لیجانے کے لئے آیا ہوں ، لیکن اس تمام کے باوجود عدالت نے یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کردی ، اب معلوم یہ کرنا ہےکہ اس صورت میں کیا حکم ہے ؟ کیا اس یکطرفہ ڈگر ی سے نکاح ختم ہوا یا باقی ہے ؟اگر باقی ہے تو لڑکی والوں کے لئے کیا حکم ہے جو بلاوجہ اپنی بیٹی کا گھر برباد کررہے ہیں؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جو عموما یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتا ہے،لہذا سائل کی بہو نے اگر شوہر( سائل کے بیٹے ) کی اجازت ورضامندی کے بغیر جھوٹے او ر بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو ، تو مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعاً سائل کے بیٹے کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور برقرار ہے ، لہذا سائل کی بہو کے لئے مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری کو بنیاد بناکر کسی دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ،جس سے اجتناب لازم ہے،
جبکہ دونوں خاندان والوں کو چاہیئے کہ باہمی رنجشوں اور اختلافات کو ختم کرکےمیاں بیوی کا گھر بسانے کی کوشش کریں ، لیکن اگر کسی طرح ان کے مابین نباہ ممکن نہ ہو تو شوہر کو طلاق بالمال یا خلع پر آمادہ کرکے خوش اسلوبی کےساتھ اس معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔
کما فى احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا انھمالايجوز خلعھما الأبرضى الزوجين فقال اصحابناليس للحكمين ان يفرفا الا برضى الزوجين لان الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وانما الحكمان وكيلان لھما آحدهما وكيل المراة والأخر وكيل الزوج في الخلع إلى قوله وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاء يخرجا المال عن ملكها اھ (2 /239)۔
و فی رد المحتار: (قوله: وشرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، و لا يستحق العوض بدون القبول اھ (3 /441)۔
و في المبسوط للسرخسي: (قال) و الخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق بعوض وللزوج ولاية إيقاع الطلاق اھ (6/ 173)۔