مفتی صاحب! میں مدینہ سے مکہ جارہا تھا، ذولحلیفہ پر نماز پڑھ کر عمرہ کی نیت کرلی، لیکن تلبیہ پڑھنا بھول گیا، کافی راستہ طے کرنے کے بعد جب یاد آیا تو بس میں ہی تلبیہ پڑھ لیا مکہ پہنچ کر عمرہ کرلیا، دوبارہ کسی میقات نہیں لوٹا تو کیا میرا عمرہ ہوگیا یانہیں اور مجھ پر کچھ لازم ہوگا یا نہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ احرام کے لیے نیت کے ساتھ ساتھ کم از کم ایک مرتبہ ”تلبیہ پڑھنا“ لازم ہے، اس کے بغیر وہ شخص احرام میں داخل نہ ہوگا، لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل پر میقات پار کرنے سے پہلے نیت کرلینے کے ساتھ ”تلبیہ پڑھنا“ بھی لازم تھا، تلبیہ نہ پڑھنے کی وجہ سے سائل کا احرام شروع نہیں ہوا اور بغیر احرام کے سائل نے میقات پار کرلیا اور دوبارہ کسی میقات پر جا کر احرام بھی نہیں باندھا، بلکہ حل کے اندر ہی تلبیہ پڑھ کر عمرہ ادا کرلیا تو ایسی صورت میں سائل کا عمرہ تو ادا ہوگیا، البتہ سائل پر ایک دم لازم ہے، یعنی حدودِ حرم کے اندر ایک سال کا بکرا یا بکری ذبح کرکے اس کا گوشت فقراء پر صدقہ کردیا جائے۔
ففی حاشية ابن عابدين: فلا بد من التلبية أو ما يقوم مقامها فلو نوى ولم يلب أو بالعكس لا يصير محرما وهل يصير محرما بالنية والتلبية أو بأحدهما بشرط الآخر المعتمد ما ذكره الحسام الشهيد أنه بالنية لكن عند التلبية كما يصير شارعا في الصلاة بالنية لكن بشرط التكبير لا بالتكبير كما في شرح اللباب الخ (2/ 479)
وفى غنية الناسك: من جاوز وقته غير محرم ثم أحرم أو لا فعليه العود الى وقت وان لم يعد فعليه دم. آفاقي مسلم مکلف أراد دخول مکة أو الحرم ولو لتجارة أو سیاحة وجاوز آخر مواقیته غیر محرم ثم أحرم أو لم یحرم أثم ولزمه دم وعلیه العود إلی میقاته الذي جاوزه أو إلی غیره أقرب أو أبعد، وإلی میقاته الذي جاوزه أفضل، وعن أبي یوسف: إن کان الذي یرجع إلیه محاذیاً لمیقاته الذي جاوزه أو أبعد منه سقط الدم وإلا فلا، فإن لم یعد ولا عذر له أثم؛ لترکه العود الواجب." فان كان له عذر كخوف الطريق أو الانقطاع عن الرفقة أو ضيق الوقت أو مرض شاق ونحو ذلك فأحرم من موضعه ولم يعد اليه لم يأثم بترك العود وعليه الاثم والدم للمجاوزة. (104)
وفي المبسوط للسرخسي: وكذلك كل دم وجب عليه بطريق الكفارة في شيء من أمر الحج أو العمرة فإنه لا يجزئه ذبحه إلا في الحرم، وعليه التصدق بلحمه بعد الذبح على فقراء الحرم، وإن تصدق على غيرهم من الفقراء أجزأه عندنا؛ لأن الصدقة على كل فقير قربة. (4/ 75)