کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اور میری بیوی اگلے مہینے عمرہ پر جا رہے ہیں ، ہمارے ساتھ میری ایک سالی جس کی عمر تقریباً ساٹھ سال سے اوپر ہے ، وہ بھی جانا چاہتی ہے ، تو کیا شرعاً اس کی گنجائش ہے یا نہیں ؟ اور اگر وہ الگ فلائٹ سے جائے اور الگ کمرہ میں رہے ، تو اسکا کیا حکم ہے ؟ اسی طرح اگر وہ عورتوں کے گروپ میں عمرہ کے لئے جائے ، تو جاسکتی ہے یا نہیں ؟
واضح ہو کہ عورت خواہ جوان ہو یا عمر رسیدہ ، اسکے ساتھ مسافتِ شرعی کے بقدر سفر کے دوران شوہر یا محرم کا ہونا شرعاً لازم اورضروری ہے ، اور بغیر محرم کے اس کیلئے سفر کرنا شرعاً جائز نہیں ، لہٰذا سائل کی سالی کا سائل یا خواتین کے گروپ کے ساتھ شوہر اور محرم کے بغیر عمرہ کے سفر پر جانا شرعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی صحیح مسلم : عن عبد اللہ بن عمر ، عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : « لا يحل لامرأة تؤمن بالله و اليوم الآخر ، تسافر مسيرة ثلاث ليال إلا و معها ذو محرم » ۔ (2/ 975)۔
و فی الهندية : (و منها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها و بين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط اھ (1/ 218)۔