نام رکھنے کا حکم

لائبہ نام رکھنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
69989
| تاریخ :
2023-12-26
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

لائبہ نام رکھنا کیسا ہے؟

السلام علیکم !
میری ایک بچی جس کی عمر 14 سال ہے اس کا نام میں نے "لائبہ " رکھا ہے ، مجھے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ نام صحیح نہیں ہے ، میں اس بارے میں آپ حضرات سے پوچھنا چاہتا ہوں ، برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں -شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

"لائبہ "عربی زبان کا لفظ ہے اور "لاب" سے مشتق ہے، جس کا معنی ہے پیاسا ، پیاسے کا پانی کے ارد گرد گھومنا ، اس لئے معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھنا مناسب نہیں، لہذا بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام صحابیات رضی اللہ عنہن یا مسلمان نیک خواتین کے ناموں میں سے کسی نام پر یا اچھا بامعنی نام رکھیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی المعجم الوسيط : (لاب) : الرجل أو البعير لوباً و لواباً و لوباناً : عطش و استدار حول الماء و هو عطشان لا يصل إليه فهو لائب ، (ج) لؤوب و لوب و لوائب ، يقال : إبل لوب و لوائب ، و هي لائبة ، و الجمع لوائب' اھ(2/ 844)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69989کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات