السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ کیا بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے ملک یا گھر سے باہر جا سکتی ہے ؟ میرا سسر میری بیوی کو عمرہ پر لے جا رہے ہیں ،لیکن مجھ سے نہیں پوچھا کیا یہ جائز ہے ؟
عمرہ کی استطاعت رکھنے والے کےلئے زندگی میں ایک بار عمرہ کرنا سنتِ مؤکدہ ہے فرض نہیں ، لہٰذا بیوی کےلئے عمرہ کی استطاعت اور محرم کے موجود ہونے کے باوجود عمرہ کے سفر کےلئے نکلنے سے پہلے شوہر سے اجازت لینا شرعاً ضروری ہے ، اور شوہر کو اسے منع کرنے کا اختیار بھی ہے ، لہٰذا سائل کی بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے والد کے ساتھ عمرہ پر جانے سے اگرچہ اس کا عمرہ درست ادا ہو جائے گا ، مگر شوہر کی نافرمانی کا گناہ بہر حال ہوگا ، اس لئے اسے چاہیئے کہ وہ شوہر کو راضی کرکے اس مبارک سفر پر نکلے ، تاکہ یہ مقدّس سفر معصیت سے خالی رہ سکے ، جبکہ سائل کو بھی چاہیئے کہ وہ بلا عذرِ شرعی بیوی کو اس سفر سے نہ روکے ، تاکہ میاں و بیوی کے درمیان اختلافات اور رنجشیں پیدا نہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اس سعادت سے بھی محروم نہ ہو ۔
کما فی غنیۃ الناسک : و ھی فی العمر مرۃ سنۃ مؤکدۃ لمن استطاع ، ھو المذھب اھ ( باب العمرۃ ، صـــــــ 196 )
و فی التنویر مع الدر : ( و العمرۃ ) فی العمر ( سنۃ مؤکدۃ ) علی المذھب اھ ( ج 2 ، صــــــــــ 472 ط : سعید )
و فی غنیۃ الناسک : و لیس للزوج منعھا عن حجۃ الاسلام إذا کان معھا محرم ، و الا فلہ منعھا ، کما یمنعھا من غیر حجۃ الاسلام إلخ ( صــــــ ـ28 )
و فی رد المحتار تحت : ( قولہ و لیس لزوجھا منعھا ) أی إذا کا معھا محرم ، و إلا فلہ منعھا کما یمنعھا عن غیر حجۃ الاسلام الخ( ج 2 ، صـــــــــ 465 ط : سعید )