کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسماۃ حلیمہ بنت عمر ہاشم کا نکاح مسمی کریم خان ولد اکبر خان سے ہوگیا تھا ،اس رشتہ سے ہماری ایک بیٹی بھی تھی جو فوت ہوگئی ہے ،میرے شوہر کے مار پیٹ ،غیر ذمہ دارانہ رویہ اور نشہ کی وجہ سے گھریلو اخراجات نان ونفقہ نہ دینے کی وجہ سے میں نے ان کے خلاف عدالت میں خلع کا کیس کیا ان کی طرف عدالت سے تین نوٹس بھی گئے ،لیکن وہ نہیں آئے اور عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کردی اور تقریباً دو سال ہوگئے ،میں دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہوں تو معلوم یہ کرنا ہے کہ میرا نکاح ختم ہوا کہ نہیں اور میرے لئے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے،جس کی درستگی کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے،لہذا صورتِ مسؤلہ میں اگر سائلہ کے شوہر یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نے خلع پر رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو تو ایسی صورت میں سوال کے ساتھ مہیا کردہ تفصیلات کے مطابق عدالت کی جانب سے جاری کردہ یکطرفہ خلع کی ڈگری سے چونکہ میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا،بلکہ بدستور برقرار ہے،اور سائلہ کا اس نکاح کو ختم کیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنے سے دوسرا نکاح شرعا منعقد نہ ہوگا، اس لئے سائلہ کو چاہیے کہ وہ مزید کسی آزمائش اور گناہ میں مبتلا ہونے کے بجائے مذکور لڑکے کو طلاق یا خلع پر آمادہ کرکے نکاح کوختم کرے،اور نکاح ختم ہونے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرے،جبکہ لڑکے کے طلاق وغیرہ پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں خاندان کے سمجھدار اور بااثر افراد کو معاملہ سے آگاہ کرکے ان کے ذریعہ معاملات حل کرنے کی کوشش کریں امید ہے اللہ تعالی بہتری کا معاملہ فرمائیں گے ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص:وانما یوجہ الحکمان لیعظا الظالم منھما وینکرا علیہ ظلمہ واعلام الحاکم بذلک لیأخذ ھو علی یدہ فان کان الزوج ھو الظالم انکرا علیہ وقالا لہ لا یحل لک ان تؤذیھا لتخلع منک وان کانت ھی الظالمۃ قالا لھا قد حلت لک الفدیۃ وکان فی اخذھا معذورا لما یظھر للحکمین من نشوزھا فاذا جعل کل واحد منھما الی الحکم الی من قبلہ مالہ من التفریق والخلع کانا مع ما ذکرنا من امرھما وکیلین جائز لھما ان یخلعا ان رأیا وان یجمعا ان رأیا ذلک صلاحا فھما فی حال شاھدان وفی حال مصلحان وفی حال آمران بمعروف وناھیان عن منکر ووکیلان فی حال اذا فوض الیھما الجمع والتفریق الخ (ج2 ص193 سورۃ النساء ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان)۔
وفی ردالمحتار تحت (قولہ للشقاق) ای لوجود الشقاق وھو الاختلاف والتخاصم وفی القھستانی عن شرح الطحاوی:السنۃ اذا وقع بین الزوجین اختلاف ان یجتمع اھلھما لیصلحوا بینھما،فان لم یصطلحا جاز الطلاق والخلع اھ وھذا ھو الحکم المذکور فی الآیۃ وقد اوضح الکام علیہ فی الفتح آخر الباب (الی قولہ) واما رکنہ فھو کما فی البدائع:اذا کان بعوض الایجاب والقبول لانہ عقد علی الطلاق بعوح فلا تقع الفرقۃ ولا یستحق العوض بدون القبول الخ (ج3 ص441 باب الخلع ط: سعید)۔
وفی فتاوی التاتارخانیۃ: فی المخلص والایضاح: الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ ویستحق علیھا العوض الخ (ج5 ص5 کتاب الطلاق الفصل السادس عشر فی الخلع ط:زکریا)۔