مجھ پر غسل فرض ہے ،میں غسل کی نیت کرکے نہا لیتا ہوں(غسل نہیں کرتا)اور نہانے کے بعد وضو کرلیتا ہوں،کیا میں پاک ہوگیا اور کیا میری نماز جائز ہے؟
2اگر ہمارے پاس محدود وقت ہے اور ہمارے پاس دو کام ہیں،جن میں سے ایک کرسکتے ہیں ،غیر مسلم کو اسلام کی دعوت دی جائے،بگڑےہوئے مسلمان کو تبلیغ کی دعوت دی جائے تو ان دونوں میں سے کس کو ترجیح دی جائے؟
نہانا غسل کرنے کو ہی کہا جاتا ہے،لہذا سائل نے جب نہاکر وضو کرلیا تو وہ بلاشبہ پاک ہوگیا اور اس حالت میں اس کی پڑھی گئی نماز بھی درست کہلائیگی۔
2: اہم تو کافر کو مسلمان کرنا ہے،مگر احکام شرعیہ میں اس طرح تقابل کے ساتھ سوال کرنا اگر اس کی اہمیت گھٹانے کی غرض سے ہو تو بہت بری اور غلط سوچ ہے،کیونکہ اپنی جگہ ہر نیکی کا کام اہم اور موجب ثواب ہے۔
کمافی الدر المختار: ویجب ای یفرض غسل کل ما یمکن من البدن بلاحرج مرۃ کأذن وسرۃ وشارب وحاجب وأثناء لحیۃ وشعر رأس ولو مبتلۃ الخ(1/152 )ھ