کیافرماتےہیں مفتیانِ کرام مسئلۂ ذیل کےبارےمیں کہ ہم نے کورٹ سےخلع لی ہے،خلع کی وجہ یہ ہےکہ جس لڑکے سےمیری بہن کانکاح کیاگیاتھا،وہ پاؤڈر کانشہ کرتاتھاجس کاہمیں پتہ نہیں تھا،شادی کے تین ماہ بعد میری بہن کوپتہ چلا،جس پرلڑکے کےبھائیوں نےاسےنشےکےہسپتال میں تین ماہ تک داخل کیااور اس کاعلاج کروایااوراس دوران ہم نے اپنی بہن کواپنے گھرمیں رکھا،جب لڑکا واپس آیاتو اس نے ہمیں یقین دہانی کروائی کہ وہ آئندہ نشہ نہیں کریگااور ہم نے بہن کوانکےساتھ بھیج دیا،چنانچہ اس دوران اس نے گھرسے میری بہن کی سونے کی انگوٹھی چوری کرکے بیچ دی اورمیری بہن کےپوچھنےپرقسمیں کھانے لگ گیا،اور وہ ہماری بہن کوضروری اخراجات کیلئےخرچ بھی نہیں دیتاتھا،اورکام بھی نہیں کرتاتھا،اورہمارےرشتہ داروں کے گھرجاکرپیسے ادھار مانگتاتھا،اوریوں ایک بار پھر نشہ پر لگ گیاتھا،جس پر ہم نے خلع لی ہے،اور بقول میری بہن کےاس نےمجھےتنگ کرکے رکھا ہوا تھا، لڑکے نے اپنے باپ کے اکاؤنٹ سےجعلی سائن کرکے پیسے چوری کیے ہیں،جس پرلڑکےکےباپ نےاسےگھرسے بےدخل کردیا،توپھرہم نےطلاق کامطالبہ کیا اوراس نےطلاق دینےسےانکار کردیا،تب ہم نےمجبورہوکر کورٹ سے خلع لی ہے،کورٹ نےلڑکےکو تین مرتبہ سمن جاری کیا،اسکے باوجود وہ کورٹ میں حاضر نہیں ہوا،اب معلوم یہ کرناہےکہ کیاہم اپنی بہن کانکاح دوسری جگہ کرسکتے ہیں؟از روئےشرع اس کاحکم کیاہے؟
واضح ہوکہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے،جس کی صحت کےلئےفریقین کی باہمی رضامندی اور ایجاب وقبول شرط ہے جو کہ عموماً عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتاہے، لہذاسائل کےبہنوئی یااسکے مقررکردہ وکیل نےاگرخلع پررضامندی کااظہارنہ کیاہو،بلکہ اس کی اجازت ورضامندی کےبغیر سائل کی بہن نےعدالت سےیکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی ہو،تو اس یکطرفہ عدالتی خلع کےذریعے شرعاً سائل کی بہن کانکاح ختم نہیں ہوابلکہ بدستور برقرار ہے،لہذا سائل کی بہن کےلئےاپنےشوہرسےطلاق یا اسکی رضامندی سے خلع لئےبغیرمذکور یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری کوبنیاد بناکرکسی دوسری جگہ نکاح کرناشرعاًجائز نہیں جس سےاجتناب لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: واما رکنہ فھو الایجاب والقبول لانہ عقد علی الطلاق بعوض فلاتقع الفرقۃ ولا یستحق العوض بدون قبول الخ (فصل –الخلع ۔ج3 صـ 135)۔
وفی ردالمحتار تحت (قولہ: وشرطہ کالطلاق) وھو اھلیۃ الزوج وکون المراۃ محلا للطلاق منجزا او معلقا علی ملک واما رکنہ فھو کما فی البدائع: اذا کان بعوض فلا تقع الفرقۃ ولایستحق العوض بدون القبول الخ (ج3 صـ 441 کتاب الطلاق ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی المبسوط للسرخسی: والخلع جائز عند السلطان وغیرہ لانہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وھو بمنزلۃ الطلاق بعوض وللزوج ولایۃ ایقاع الطلاق ولھا ولایۃ التزام العوض الخ( ج6 صـ 173 کتاب الطلاق ط: ادارۃ القرآن)۔