کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسمی افضال احمد ولد سردار احمد (سائل) کی بیوی گھریلو ناچاقی اور لڑائی ، جھگڑوں کی وجہ سے عدالت میں خلع کا مقدمہ درج کیا ، میں عدالت میں حاضر نہیں ہوا ثمن ملنے کے باوجود، تاہم میں نے اپنے لئے ایک وکیل ہائر کیا تھا جو عدالت جاتا رہا اور پھر اس نے مجھے منسلکہ خلع کی ڈگری جو میرے دستط کئے بغیر عدالت نے جاری کی ہے، اور کہا کہ خلع ہو گئی ہے، براہِ کرام راہ نمائی فرمائیں کہ خلع کی ڈگری سے خلع ہوئی ہے، یا نہیں؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ،جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقود ہوتا ہے ، لہذا سائل کی بیوی نے اگر سائل یا اسکے مقرر کردہ وکیل کی اجازت اور رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو اس یکطرفہ خلع کی ڈگری سے شرعاً سائل کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ بدستور بر قرار ہے۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اھ (ج 3، ص 153) ۔
وفي التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ (ج 3، ص 453، ادارۃ القرآن)۔