جناب عالی ! گزارش یہ ہے کہ میں نوید الرحمٰن مجھے میری بیوی نے دھوکہ اور فریب دے کر عدالت سے غیرقانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے خلع کی ڈگری لی ، اور مجھے پتا بھی نہیں چلا ، اور نہ مجھے کوئی خبر ہوئی ، مگر میں نے شادی کسی لالچ یا غرض میں نہیں کی، اور میری کوئی ایسی غلطی نہیں تھی ، اور میں بیوی کو کسی بات سے روکتا تھا تو وہ نہیں رکتی تھی ، میری بیوی پہلے سے ہی بیوہ تھی اور انسانی ہمدردی کے تحت ان کی تین بیٹیاں ہیں جن کو میں دل و جان سے چاہتا ہوں ، آپ سے مندرجہ ذیل باتیں عرض ہیں ، ( 1) عدالتی خلع نوید الرحمٰن کے علم میں لائے بغیر ہوئی یا نہیں ؟ ( 2 ) اس خلع کی حیثیت کیا ہے ؟( 3 ) میں نے کبھی بھی ان کے مال و دولت پہ نظر نہیں رکھی ، اور ابھی بھی ان بیٹیوں کو باپ سے بڑھ کر پیار کرتا ہوں ، رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی ، اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقود ہوتی ہے ، چنانچہ صورتِ مسؤلہ میں اگر سائل کی بیوی نے سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو اس سے نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ وہ بدستور قائم ہے ، لہذا دونوں میاں بیوی کی طرح حسبِ سابق زندگی گزار سکتے ہیں ، جبکہ مذکور ڈگری کی بنیاد پر سائل کی بیوی کا دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ گناہ ہے ، جس سے احتراز بہرصورت لازم ہے ۔
کما فی احکام القران للجصاص: قال انھما لایجوز خلعھما الا برضی الزوجین فقال اصحابنا لیس للحکمین أن یفرقا الا برضی الزوجین لأن الحاکم لایملک ذلک فکیف یملکہ الحکمان و انما الحکمان وکیلان لھما أحدھما وکیل المرأۃ و الآخر وکیل الزوج فی الخلع (الی قولہ) و کیف یجوز للحکمین أن یخلعھما بغیر رضاہ و یخرج المال عن ملکھا اھ (ج 3 ، ص 153 ، ط: سھیل اکیڈمی)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول اھ (کتاب الطلاق، ج 3 ، ص 145 ، ط: سعید) ۔