السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! امید ہے مزاجِ گرامی بخیر ہوں گے، حضرت مفتی صاحب! ایک بندہ اپنے ساتھ اپنے بچوں کو لے کر عمرہ تشریف لے گئے تھے، بچے چھوٹے تھے، ان کے احرام وغیرہ ان کے والدین نے ان کے لئے باندھ لئے، چند عمرے ادا کیے لیکن کسی بھی عمرہ کی ادائیگی کے بعد بچوں کا نہ قصر کیا گیا اور نہ حلق ، مذکور مسئلہ میں حلق نہ کرنے کی وجہ سے والدین پر کوئی گناہ یا دم لازم تو نہیں آتا؟جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
بچوں کہ احرام بندھوانے کے بعد بھی وہ افعال عمرہ کے مکلف نہیں ہوتے، لہذا ان کے حلق یا قصر نہ کرنے سے والدین پر کوئی دم لازم نہ ہو گا اور نہ ہی وہ گناہ گار ہوں گے ، تاہم بچوں کے سرپرستوں کوا نہیں احرام بندھوانے کے بعد ان کے حلق یا قصر کروانے کا بھی اہتمام چاہیئے۔
کما فی الھندیۃ: (ومنھا البلوغ) فلا یجب علی الصبی کذا فی فتاوی قاضی خان الخ (217/1)
وفی البحر الرائق: وما کان الصبی غیر مخاطب کان إحرامہ غیر لازم، ولذا لو أحصر وتحلل لا دم علیہ ولا جزاء ولا قضاء الخ (2/ 340)