میری کزن میرج ہے، شادی کو 16 سال ہو گئے ہیں، 4 بچے ہیں، میرے شوہر زانی ہیں، ثبوت اور گواہی میں کہاں سے لاؤ؟ اپنے تعلقات چھپا کر رکھتے ہیں اللہ کی طرف سے کبھی کچھ بے نقاب ہو جاتا ہے، میں کسی کو شکایت نہیں کرسکتی، گھر بچے نہیں چھوڑ سکتی،سوال یہ کے اگر میں ان سے اپنا ازدواجی تعلق ختم کرنا چاہوں تو کیا مجھے گناہ ہو گا؟ میں یہ بات شک کی بنیاد پر نہیں کر رہی قرآن حدیث سمجھتی ہوں، 16 سال میں سب طریقے آزما چکی ہوں۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو،بایں طور کہ واقعۃً سائلہ کے شوہر کے اجنبی عورت سے ناجائز وحرام تعلقات ہوں تو اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گا ر ہوا ہے،اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ و استغفار اور جلد سے جلد مذکور نامحرم خاتون سے اپنے تعلقات منقطع کرے یا پھر باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں اس سے نکاح کرکے پاکدامنی کی زندگی اختیار کرے،نکاح کے بغیر اس کے ساتھ اس طرح تعلقات قائم رکھنا اور تنہائی میں ملنا وغیرہ تمام امور شرعاً ناجائز وحرام اور گنا کبیرہ ہیں جن سے بہر صورت احتراز لازم ہے،جبکہ سائلہ کے لئے اس کے نکاح میں رہتے ہوئے اس سے ازدواجی تعلق ختم کردینا اور اپنے اوپرقدرت نہ دینا شرعاً درست نہیں، بلکہ سائلہ کو چاہیے کہ جائز امور میں شوہر کی فرمانبرداری کرتے ہوئے پیار محبت اور حکمت وبصیرت کے ساتھ اس کو سمجھانے کی کوشش کرے ، تاہم اگر از خود سمجھانا مشکل ہو تو خاندان کے معزز افراد کے ذریعہ سے اسے سمجھائے اور ساتھ ساتھ اس کی ہدایت کیلئے دعائیں بھی کرتی رہے،ان شاءاللہ اس سے فائدہ ہوگا ،لیکن اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود شوہر اپنی ان حرکات سے باز نہ آئے تو ایسی صورت میں سائلہ اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ بھی کرسکتی ہے۔
کما فی رد المحتار تحت: (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع الخ(باب الخلع،ج3،ص441،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية (کتاب الطلاق،ج1،ص488،ط:ماجدیہ)۔
وفی الدر المختار: (إلا من أجنبية) فلا يحل مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ (إلی قولہ) وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام اھ (ج6،صـــ367،ط:سعید)۔