السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت ! اگر بدن پر ناپاکی لگی ہوئی ہو جیساکہ ( منی ، مذی وغیرہ ) خاص کر کے احتلام ہونے کے بعد ران پر منی لگی ہوئی ہوتی ہے ، تو غسل سے پہلے وہ علیحدہ دھونا مشکل ہوتا ہے ، تو میں اگر غسل کرتے وقت وہاں اچھی طرح سے زیادہ پانی بہا کر مل کر دھولیا کروں اور کبھی صابون بھی استعمال کرتا ہوں، اب کیا مجھے پاؤں کے ران سے نیچے کے حصہ کو بھی مل کر دھونا ضروری ہے ، یا صرف کافی پانی بہانے سے ہوجائے گا ، میں شاور کے نیچے غسل کرتاہوں ، پانی پورا وقت گرتا ہی رہتا ہے بدن پر ، میں نے کہی پڑھا تھا کہ نا پاکی پر پانی ڈالنے سے وہ پھیل جاتی ہے ، تو ابھی غسل کے وقت مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے ، وسوسہ ہوتاہے، بہت وقت ضائع ہوتا ہے ، بہت زیادہ وقت غسل کرنے پر لگتا ہے ، مطلب میں پہلے اس جگہ جہاں ناپاکی ہے وہ مل مل کر زیادہ پانی سے دھوتا ہوں ، پھر اس سے نیچے والے حصے کو بھی پانی سے مل مل کر دھوتا ہوں ، میں طالب علم ہوں احتلام کے بعد کافی وقت صرف فرض غسل کرنے میں ہی چلا جاتا ہے ۔
غسل جنابت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ غسل شروع کرنے سے پہلے جسم پر لگی ہوئی نجاست ( منی وغیرہ ) کو اولاً دھو کر صاف کرلیا جائے ، لہذا سائل کو بھی چاہئیے کہ غسل شروع کرنے سے قبل جسم پر لگی ہوئی نجاست کو اچھی طرح دھو کر جسم کے پاک ہونے کا اطمینان کرلے ، تاکہ غسل کے دوران جسم پر لگی ہوئی نجاست کے پھیلنے اور پاکی وناپاکی کے وہم میں مبتلا ہونے سے بچا جاسکے ، جبکہ غسل سے قبل نجاست پاک کرنے کے بعد معمول کے مطابق غسل کرنے کی صورت میں پورا جسم پاک ہو جائیگا ، اس سلسلہ میں بلا وجہ شکوک وشبہات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله: وخبث بدنه) أي لو قليلا كما يظهر من التعليل. وأفاد أن السنة نفس البداءة بغسل النجاسة، وأما نفس غسلها فلا بد منه ولو قليلة فيما يظهر لتنجس الماء بها الخ ( ض 1 ص 157 مطلب سنن الغسل ط سعید )۔
وفی الدر المختار: (البداءة بغسل يديه وفرجه) وإن لم يكن به خبث اتباعا للحديث (وخبث بدنه إن كان) عليه خبث لئلا يشيع الخ ( ج 1ص 157 مطلب سنن الغسل ط سعید )۔