شوہر راضی نہیں تھارشتہ ختم کرنے کے لیے ،نہ ہی انہوں نے اور نہ ہی ان کی وکیل نے کہی بھی دستخط کی کورٹ کے کسی بھی پیپر پر،میں اور وہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں،میرا نکاح ختم نہیں ہوا ہے ،میں نے فتوی دیکھا ہے،میری رہنمائی کریں؟کورٹ سے خلع یکطرفہ ہے،لہذا ختم نہیں ہواہے۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے،جس کی درستگی کے لیے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے،لہذاسائلہ کے شوہر یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نے اگرخلع کے کاغذات پر دستخط نہ کیے ہوں،اور نہ ہی اس پر رضامندی کا اظہار کیا ہو،تو ایسی صورت میں عدالت کی جانب سے جاری کردہ یکطرفہ خلع کی ڈگری سے چونکہ میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا،بلکہ بدستور برقرار ہے،اس لیے میاں بیوی بغیر تجدید نکاح کیے حسبِ سابق ایک ساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا انھما لایجوز خلعھما الا برضی الزوجین لان الحاکم لایملک ذلک الخ (ج2 ص191 باب الحکمین کیف یعملان ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان)۔
وفی ردالمحتار تحت (قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول الخ (ج3 ص441 کتاب الطلاق،باب الخلع ط: سعید)۔