میرے شوہر بیرون ملک رہتے ہیں اور 5 ماہ بعد مجھ سے ملنے آئیں گے .مسئلہ یہ ہے کہ جس دن وہ اتریں گے پہلا رمضان ہو گا اور میں ایک مخلص مسلمان ہوں میں اسے کیسے سمجھاؤں؟وہ نہیں رکےگا اور میں روزہ توڑنا نہیں چاہتی ہو۔
صورت مسئولہ میں سائلہ کے لئے اپنے شوہر کے کہنے پر اور اصرار کے باوجود بھی فقط اس کی جنسی خواہشات کی تکمیل کی غرض سے رمضان کا روزہ توڑنا شرعاً جائز نہیں اور نہ ہی شوہر کے لئے اپنے ازدواجی حقوق کو پورا کرنے کے لئے اپنی بیوی کو روزہ توڑنے پر مجبور کرنا جائز ہے ، جبکہ تسکین شہوات کے لئے رمضان کی رات میں میاں بیوی کے لئے ازدواجی تعلق قائم کرنے کی شرعاً گنجائش ہے،تاہم اگر سمجھانے کے باوجود سائلہ کا شوہر اس کے ساتھ زور زبردستی کرکے ازدواجی تعلق قائم کرے تو اس کی وجہ اگرچہ سائلہ پر کفارہ لازم نہ ہوگا بلکہ فقط اس روزے کی قضاء لازم ہوگی ، البتہ شوہر اگر ازدواجی تعلق کی وجہ سے اپنا فرض روزہ توڑدیتا ہے تو اس پر قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوگے۔
کما قال اللہ تعالی: أُحِلَّ لَكُمۡ لَيۡلَةَ ٱلصِّيَامِ ٱلرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَآئِكُمۡۚ هُنَّ لِبَاسٞ لَّكُمۡ وَأَنتُمۡ لِبَاسٞ لَّهُنَّۗ عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُمۡ كُنتُمۡ تَخۡتَانُونَ الایۃ(البقرۃ ۔آیۃ 187)۔
وفی رد المحتار: (قوله ولا تصوم المرأة نفلا إلخ) أي يكره لها(الی قولہ) ولذا قال في البحر عن القنية للزوج أن يمنع زوجته عن كل ما كان الإيجاب من جهتها كالتطوع والنذر واليمين دون ما كان من جهته تعالى كقضاء رمضان الخ(ج 2 ص 430 ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: (النوع الثاني ما يوجب القضاء والكفارة) . من جامع عمدا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولا يشترط الإنزال في المحلين كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعة، وإن كانت مكرهة فعليها القضاء دون الكفارة، وكذا إذا كانت مكرهة في الابتداء ثم طاوعته بعد ذلك كذا في فتاوى قاضي خان الخ(ج 1 ص 205 ط:ماجدیۃ)۔