السلام علیکم ! مفتی صاحب مجھے ڈاکٹر نے وقفہ سے روزے رکھنے کو کہا ہے ، میں ایک کڈنی پیشنٹ ہوں اس میں پتھر بھی پیدا ہوئی ہے اس لئے، تو بعدمیں وقفہ کے روزہ رکھ سکتے ہے اور اس کا ثواب رمضان والا ہوگا ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر ماہر اور دیندار ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق رمضان المبارک کے مہینے میں لگاتار روزے رکھنے کی وجہ سے اسکی بیماری بڑھنے یا اسے سخت تکلیف پہنچنے کا خوف ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق رمضان المبارک کے مہینے میں وقفہ وقفہ سے روزے رکھنے کی اجازت ہوگی ، تاہم بعد میں چُھوٹے ہوئے روزوں کی قضا رکھنا سائل کے ذمہ لازم ہوگا ، جبکہ عذر اور بیماری کیوجہ سے سائل کے جو روزے چھوٹ جائیں تو امید ہے کہ بعد میں رکھنے کی وجہ سے اس کے ثواب میں کمی نہ ہوگی ۔
کما قال اللہ تعالی: فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَ الایۃ (بقرۃ ۔ ایہ 184)۔
وفی صحیح البخاری: حدثنا إبراهيم أبو إسماعيل السكسكي قال:سمعت أبا بردة، واصطحب هو ويزيد بن أبي كبشة في سفر، فكان يزيد يصوم في السفر، فقال له أبو بردة: سمعت أبا موسى مرارا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: إذا مرض العبد، أو سافر، كتب له مثل ما كان يعمل مقيما صحيحا الحدیث(رقم: 2834)۔
وفی الھندیۃ: (ومنها المرض) المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق كذا في فتح القدير الخ (ج 1 ص 207 ط: ماجدیۃ)۔