السلام علیکم !
میرا نام علی رحمٰن ولد مقبول حسین بھٹی ہے ، جناب میرا ایک مسئلہ ہے اس پر آپ کی رائے فتوٰی کی صورت میں درکار ہے ، میرا نکاح بتاریخ 13-03-10 کو ہوا تھا جس کے بعد اللہ کے فضل سے میرے چار بچے ہیں ، سب سے پہلی اولاد نورالعین دوسری محمد احمد تیسری رائحہ یمانی چوتھی محمد مسعودالرحمٰن ہیں ، جناب بتاریخ 21-10-16 کو میرے بچوں کی ماں گھر میں فساد برپا کرکے اپنے والدین اور کچھ بدمعاشوں کے ہمراہ میرے گھر سے 4 بچوں کو چھوڑکر چلی گئی ، اس کے بعد خاندان کے بڑوں نے کئی بار میرے بچوں کی والدہ اور ان کے والدین سے ملے کہ اپنی بیٹی کو واپس بھیجیں پر وہ لوگ اور میری بیوی خلع کی ڈیمانڈ کرتی رہی ، جب خاندان کے بڑوں سے مسئلہ حل نہیں ہوا تو وہ لوگ بے زار آگئے ، پھر میں نے کورٹ سے اپنے مسئلہ کے حل کے لئے رجوع کیا کہ میری بیوی اپنا مسئلہ بتائے تاکہ میں حل کروں اور اپنا گھر بچاسکوں پر کورٹ میں آکر بھی انہوں نے کورٹ میں کہا کہ مجھے اس کے ساتھ ذہنی سکون نہیں مجھے خلع چاہیئے ، بالآخر کورٹ نے اپنے پروسیجر کے بعد خلع کی ڈگری جاری کردی ، جس پر میں رضامند نہیں تھا اور نہ ہی میں نے کسی بھی جگہ دستخط کیے ، کورٹ نے ڈگری جاری کی 23-9-27 کو تو میں نے بھی اسی دن اللہ کو حاضر ناظر کرکے کسی اور کے سامنے نہیں بلکہ اکیلے میں ایک طلاق رجعی دے دی تاکہ میری بیوی کو کہیں اور گھر بسانا ہو تو وہ شرعی طور پر گنہگار نہ ہو ، پر اب تک میری بیوی نے نئی جگہ گھر نہیں بسایا ، میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ اب اگر میری بیوی واپس آنا چاہتی ہو تو اس کے لئے واپسی کا راستہ ہے کہ نہیں ، اور اگر واپسی کا راستہ نہیں ہے تو میں نادرا سے طلاق نامہ بنوالوں -جزاک اللہ
نوٹ : سائل کے الفاظ طلاق یہ تھے " میں اللہ کو حاضر ناظر مان کر اپنے بیوی کو ایک طلاق رجعی دیتا ہوں "
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس میں فریقین کا باہمی رضامندی سے ایجاب و قبول شرط ہے ، لہٰذا سائل کی عدم رضامندی اور اپنا گھر بسانے پر بار ہا اصرار کے باوجود عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے پر اگر سائل یا اس کے وکیل کی جانب سے اس پر دستخط نہ کیے گئے ہوں ، تو اس یکطرفہ عدالتی خلع سے اگرچہ میاں و بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا ، تاہم اس خلع کی ڈگری کے اجراء کے بعد اگر سائل نے تنہائی میں " طلاق دیتا ہوں " جیسے صریح اور واضح الفاظ سے ایک طلاق رجعی دیدی ہو ، تو اس سے بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے ، جس کا حکم یہ ہے کہ سائل کو دوران عدّت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا ، تاہم اگر سائل نے دوران عدّت رجوع نہ کیا ہو تو رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدّت گزرنے کے بعد یہ طلاق ، طلاقِ بائن بن کر میاں و بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے ، لہٰذا میاں و بیوی اگر اب ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں تو باضابطہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے نکاح کرنا لازم ہوگا ، لیکن آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے ۔
کما فی رد المحتار: تحت ( قولہ و شرطہ کالطلاق ) و ھو اھلیۃ الزوج و کون المرأۃ محلا للطلاق منجزا او معلقا علی ملک ، و أما رکنہ فھو کما فی البدائع إذا کان بعوض الإیجاب و القبول لأنہ عقد علی الطلاق بعوض فلا تقع الفرقۃ و لا یستحق العوض بدون القبول الخ۔ ( کتاب الطلاق ، باب الخلع ، ج۔۳ ص۔۴۴۱ ، ط۔ ایم سعید )۔
و فی المبسوط للسرخسی : ( قال ): و الخلع جائز عند السلطان و غيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود ، و هو بمنزلة الطلاق بعوض، و للزوج ولاية إيقاع الطلاق ، و لها ولاية التزام العوض ،الخ۔( کتاب الطلاق ، باب الخلع ، ج۔۶ ، ص۔۱۷۳ ، ط۔ ادارۃ القرآن )۔
و فی البحر الرائق : الخلع معاوضۃ فلا یتم برکن واحد الخ۔( ج۔۴ ، ص۔۷۲ ط۔ ماجدیہ )۔
و فی الھندیۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية. (کتاب الطلاق ، ج ۱ ، ص ۴۷۰ ، ط۔ ماجدیہ )
وفیھا ایضاً: (فالسني) أن يراجعها بالقول و يشهد على رجعتها شاهدين و يعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي و لم يشهد على ذلك أو أشهد و لم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة و الرجعة صحيحة و إن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك و يستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد ( کتاب الطلاق ، الباب السادس فی الرجعۃ ، ج ۱ ، ص ۴۶۸ ، ط۔ ماجدیہ )