السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ روزے کی حالت میں بخار ہے اور احتلام بھی ہو گیا ہے تو غسل کرے یا نہیں ؟ صرف ناپاک حصہ کو دھونا جائز ہے؟ کیا صرف وضو سے کام ہوجائیگا؟ براہِ کرم اس سے متعلق احکامات بتائیں۔شکریہ
واضح ہو کہ روزہ کی حالت میں بخار کی وجہ سے ٹھنڈے پانی سے غسل کرنا نقصان دہ ہو تو گرم پانی سے غسل کرلیا جائے لیکن اگر گرم پانی سے بھی غسل کرنا نقصان دہ ہو تو ایسی صورت میں تیمم کرنا جائز ہے چنانچہ ناپاک حصہ دھونے کے بعد مذکور بالا تفصیل کے مطابق غسل یا تیمم کرلیا جائے، وضو کرنا کافی نہیں۔
کما فی الھندیۃ: منها الجنابة وهي تثبت بسببين أحدهما خروج المني على وجه الدفق والشهوة من غير إيلاج باللمس أو النظر أو الاحتلام أو الاستمناء اھ (کتاب الطھارۃ ج 1 صـ 14 ط: ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً: وإذا خاف المحدث ان توضأ أن یقتلہ البرد أو یمرضہ یتیمم (إلی قولہ) ولو کان یجد الماء إلا أنہ مریض یخاف إن استعمل الماء اشتد مرضہ أو أبطأ برؤہ یتیمم الخ (کتاب الطھارۃ ج 1 صـ 28 ط: ماجدیۃ)