مجھے اپنے شوہر سے الگ ہوئے 2 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں، اور میں اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے والدین کے ساتھ رہ رہی ہوں، میں ایک اسلامی اسکول میں بھی کام کر رہی ہوں اور پردہ بھی کرتی ہوں، میں نے اپنے شوہر کے رویہ کی وجہ سے عدالت میں خلع کا کیس بھی دائر کیا ہے، میں نے اسے کئی مواقع بھی دیئے لیکن ان سے کوئی امید نہیں ، تو میرا سوال یہ ہے کہ میرا ان سے پچھلے ڈھائی سال سے کوئی رابطہ نہیں ہے کیا مجھے خلع کے بعد عدت گزارنی ہوگی؟ برائے مہربانی اس مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ
واضح ہوکہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، چنانچہ سائلہ اگر شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کرلے تو اس سے شرعاً سائلہ کا نکاح ختم نہ ہوگا، البتہ اگر سائلہ شوہر کی اجازت و رضامندی سے عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کرلے تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوگی اور اس دوسری صورت میں اگرچہ سائلہ اڑھائی سال شوہر سے الگ رہی ہو تب بھی خلع کے بعد سائلہ پر عدت گزارنا لازم ہوگا۔
وفی بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول اھ (کتاب الطلاق، ج 3 ، ص 145 ، ط: سعید) ۔
وفی الھدایۃ: وإبتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها لأن سبب وجوب العدة الطلاق أو الوفاة فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب الخ(کتاب الطلاق،ج2،ص276،ط:دار احیاء التراث)۔