السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی تقریباً سات سال پہلے ہوئی تھی، ان سات سالوں میں تقریباً چار سال شوہر کے ساتھ رہی، اس دوران شوہر کی طرف سے ہر قسم کی پریشانیوں کا سامنا کیا، کام روز گار کے سلسلے میں میرے شوہر کا دبئی آنا جانا لگا رہتا تھا، دبئی سے نہ کوئی رابطہ کرتے تھے اور نہ ہی نان نفقہ بھیجتے تھے اور جب ساتھ ہوتے تھے تو تقریباً لڑائی جھگڑا ہوتا تھا ، بالآخر تنگ آکر میں اپنے والدین کے گھر چلی آئی اور عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا ، عدالت میں یہ کبھی حاضر نہیں ہوا ،باوجود یہ کہ عدالت نے دو تین نوٹس جاری کیے، بلاآخر عدالت نے مجھے 31-05-2023 کو خلع کا سرٹیفکیٹ دیا، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ خلع شرعاً معتبر ہے ؟کیا میں اب دوسری جگہ شادی کر سکتی ہوں؟بینواتوجروا
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود ِمالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے جو عموما عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے ۔
لہذا اگر سائلہ نے اپنے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو اس یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود سائلہ کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بدستور برقرار ہے ، لہذا مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری کی بنیاد پر سائلہ کا دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائزنہیں ، البتہ سائلہ کا شوہر اگر واقعۃً سائلہ کے نان ونفقے اور دیگر حقوق کی ادائیگی نہ کر رہا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ خاندان کے بڑوں کے ذریعے طلاق بالمال یا خلع پر شوہر کو آمادہ کر کے اس سے خلاصی حاصل کر سکتی ہے۔
کما قال اللہ تعالی: وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا الآیۃ (آیت 20 سورۃ النساء)
وفی الدر المختار: (ومحلہ المنکوحۃ) وأھلہ زوج عاقل بالغ مستیقظ (إلی قولہ) (اکرھھا) الزوج (علیہ تطلق بلا مال) لأن الرضا شرط للزوم المال وسقوطہ الخ (کتاب الطلاق باب الخلع ج 3 صـ 230- 446 ط: سعید)
وفی رد المحتار: تحت (قوله وأهله زوج عاقل إلخ) احترز بالزوج عن سيد العبد ووالده الصغير، وبالعاقل ولو حكما عن المجنون والمعتوه والمدهوش والمبرسم والمغمى عليه، بخلاف السكران مضطرا أو مكرها، وبالبالغ عن الصبي ولو مراهقا، وبالمستيقظ عن النائم. وأفاد أنه لا يشترط كونه مسلما صحيحا طائعا عامدا فيقع طلاق العبد والسكران بسبب محظور والكافر والمريض والمكره والهازل والمخطئ كما سيأتي اھ (کتاب الطلاق باب الخلع ج3 صـ 230 ط: سعید)
وفی بدائع الصنائع: والثانية أنه من جانب الزوج يمين وتعليق الطلاق بشرط وهو قبولها العوض ومن جانبها معاوضة المال وهو تمليك المال بعوض حتى لو ابتدأ الزوج الخلع فقال: خالعتك على ألف درهم لا يملك الزوج الرجوع عنه ولا فسخه ولا نهي المرأة عن القبول، ولا يبطل بقيامه عن المجلس قبل قبولها ولا بشرط حضور المرأة بل يتوقف على ما وراء المجلس حتى لو كانت غائبة فبلغها فلها القبول (إلی قولہ) وأما رکنہ فھو الإیجاب والقبول لأنہ عقد علی الطلاق فلا تقع الفرقۃ ولا یستحق العوض بدون القبول الخ (کتاب الطلاق فصل فی رکن الطلاق ج 3 صـ 145 ط: دار الکتب العلمیۃ)