عدالتی خلع کے بارے میں علماءِ کرام کی رائے درکار ہے ، کچھ عرصہ قبل میرے بھائی کا نکاح ہوا ، نکاح کے وقت دو شرائط طے پائیں ، اول یہ کہ لڑکا لڑکی دونوں کو بیرون ملک بھیجا جائے گا جس کا کل خرچ تقریباً چالیس لاکھ آئے گا ، طے یہ ہوا کہ ٢٥ لاکھ لڑکی والے اور ١٥ لاکھ لڑکے والے ادا کریں گے اور رخصتی ان دونوں کو بیرون بھجوانے کے وقت ہی کروائی جائے گی ، دوم یہ کہ اگر کسی وجہ سے یہ دونوں بیر ون نہیں جا سکتے تو پاکستان میں ہی کوئی روزگار تلاش کر لیں گے اور جو رقم لگا کر انہیں بیرون بھجوانا تھا اسی رقم سے انہیں ایک مکان تعمیر کر کے دے دیا جائے گا ، اب وقت گزرنے کے دوران ان دونوں میاں بیوی کے درمیان کچھ اختلافات بھی ہو گئے ، موجودہ اختلافات میں صورت کچھ اس طرح کی ہے کہ جو پہلی دو شرائط طے ہوئیں تھیں ، لڑکی کا شوہر اب ان سے انکاری ہے ، اس کا موقف یہ ہے کہ جب بیرون کی بات کی گئی تھی تب وہاں کے اخراجات کم تھے ، جبکہ اب دوگنا ہو کر ٨٠ سے ٩٠ لکھ تک پہنچ چکے ہیں ، جو کہ ادا کرنے کی میری حیثیت نہیں اور مکان بھی تعمیر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں ، اس لئے اس کا موقف یہ ہے کہ لڑکی والوں کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ ان تمام اخراجات کا ذمہ میرے بھائی نے لیا تھا ، اب چونکہ اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں اور بھائی کی اپنی فیملی بھی ہے تو میں یہ سارا وزن اس پر نہیں ڈال سکتا ، اس لئے میں یا تو پاکستان میں کوئی ملازمت اختیار کر لوں یا مشرق وسطیٰ نکل جاؤں جہاں کے اخراجات یہ برداشت کر سکتا ہے اور اسے رخصتی دے دی جائے ، جبکہ لڑکی والوں کی طرف سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ لڑکا نہ اپنی بیوی کو فون کرتا ہے اور نہ اس میں دلچسپی رکھتا ہے ، جو کہ مستقبل میں بہت مشکلات پیدا کرے گا ، جس کی وجہ سے لڑکی والے خلع لینا چاہتے ہیں ، جو کہ اس کا شوہر دینا نہیں چاہتا ، شوہر کا کہنا ہے کہ وہ اپنا گھر بسائے گا ، اب لڑکی والے عدالت سے خلع لینے کی بات کر رہے ہیں ، اس صورت حال میں کیا یہ خلع شرعاً لڑکی کا حق ہے کہ نہیں ؟ اور اگر عدالتی خلع ہوتی ہے تو اس کی شرعاً کیا حثیت ہو گی ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ،جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی سے باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جبکہ عدالتی ڈگریوں میں عموماً یہ شرط مفقود ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجو د شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا ، بلکہ حسبِ سابق قائم رہتا ہے ، لہذا سائل کے بھائی کی اجازت و رضامندی کے بغیر اگر لڑکی والے یکطرفہ عدالتی خلع لیں گے تو وہ شرعاً معتبر نہ ہوگا ، بلکہ اس خلع کے باوجود دونوں کا نکاح حسبِ سابق بر قرار رہے گا ۔
كما في أحكام القرآن للجصاص : قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اهـ (ج 3، ص153 ، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
وفي الفتاوى التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ (الفصل السادس عشر في الخلع، ج 3، ص 453، إدارة القرأن)-
وفي البدائع : أن الخلع في معنى المبارأة ؛ لأن المبارأة مفاعلة من البراءة والإبراء إسقاط فكان إسقاطا من كل واحد من الزوجين الحقوق المتعلقة بالعقد المتنازع فيه كالمتخاصمين في الديون الخ ( فصل في الطلاق على مال، ج 3، 151، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-