السلام و علیکم !
میری شادی کو تقریباً دو سال ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک میرے شوہر سے جنسی تعلقات قائم نہیں ہوئے ہیں ۔ میرے شوہر جب بھی۔ کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے شدید تکلیف ہونے لگتی ہے تو وہ رک جاتے ہیں دراصل انہیں صحیح سے رومانس کرنا ہی نہیں آتا وہ مجھے مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ تمہارے ساتھ کوئی مسئلہ ہے میں کئی مرتبہ لیڈی ڈاکٹر کو بھی دکھا چکی ہوں اس نے میرا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ آپ تو صحیح ہیں بالکل پہلی دفعہ درد ہوتا ہے۔ میرے شوہر انتہائی unromantic انسان ہیں وہ جنسی عمل کے دوران foreplay کرنے کی زحمت نہیں کرتے بس خود فارغ ہونا ان کا مقصد ہوتا ہے اور وہ محض دو منٹ میں فارغ ہو کے اپنی جان چھڑاتے۔ ہیں ۔ میری جنسی تسکین نہ ہونے کی وجہ سے میں چڑچڑی رہنے لگی ہوں اور میرے لیے خود پر قابو رکھنا اب مشکل ہو رہا ہے مجھے ڈر ہے کہ میں کہیں کوئی گناہ نہ کر بیٹھوں ۔ میں اپنے شوہر سے طلاق لینا چاہتی ہوں کیونکہ جس قسم کی محبت میں چاہتی ہوں وہ کبھی بھی نہیں کر سکتے۔ براہ کرم مشورہ دیں میں کیا کروں ۔
واضح رہے کہ نکاح کا بنیادی مقصدہی نسل انسانی کی بقاءاورمردوعورت میں موجود جنسی وشہوانی جذبات کی تسکین کوحلال زریعہ سےپورا کرنے کاراستہ فراہم کرناہے،جبکہ شریعتِ مطہرہ نے مردوعورت ہردوپرلازم کیاہے وہ ایک دوسرے کو جنسی تسکین فراہم کرنےمیں طبعی ،حسی وشرعی عذرکے بغیرٹال مٹول سے کام نہ لیں ،اگر میاں بیوی دونوں صحت مند ہوں توبلاوجہ فطری تقاضے کوپوراکرنےسے انکارکرنایااپنے ساتھی کی خواہش کوپورانہ کرنے کاشرعاً کوئی جواز نہیں ہے ،لہذا سائلہ کوچاہیے کہ وہ اپنے شوہرسے طلاق اورعلیحدگی کافیصلہ لینے میں جلدبازی سے کام نہ لے بلکہ اپنے بڑے معاملہ فہم بزرگوں کے زریعے اس مسئلہ کوحتی الامکان حل کرنے کی کوشش کرے کیونکہ طلاق جیساانتہائی قدم اُٹھاناکوئی مستحسن امرنہیں بلکہ احادیث طیبہ میں اسے مبغوض ترین عمل قراردیاگیاہے،سائلہ کے شوہرکوبھی چاہیے وہ اپنی نفسانی خواہش کی تکمیل میں خودغرضی کامظاہرہ کرنے کی بجائے اپنے ساتھی اورپاٹنرکی جنسی خواہش کابھی پوراپوراخیال رکھنے کی کوشش کرے،اوراس سلسلہ میں علاج معالجہ کی ضرورت پڑئےتواس کابھی اہتمام کرےتاکہ یہ رشتہ برقراررہ کرمیاں بیوی کےلیےسکون کاباعث بنے البتہ اگر اصلاح احول کی ممکنہ تمام کوششیں بروئے کارلانےکے باوجودسائلہ کے شوہرکے رویہ اورعمل میں کوئی فرق نظرنہ آئے اورسائلہ کے لیے اس صورت حال میں اس کے ساتھ رہتےہوئے گناہ میں مبتلاءہونےکاشدیدخطرہ پیداہوجائےاوراپنی عفت وعصمت کومحفوظ رکھنامشکل ہوتووہ طلاق بالمال یاخلع کے زریعے اس سے خلاصی کرسکتی ہے اورایساکرنے سے وہ شرعاگناہ گارنہ ہوگی۔
کمافی المشکوۃ المصابیح: عن ابن عمرعن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:ابغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق(2/978ط المکتب الاسلامی)
کمافی البدائع والصنائع : وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين الله تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم."( 331/2)
وفی الفقه الإسلامی وأدلته :المعاشرة بالمعروف من كف الأذى وإيفاء الحقوق وحسن المعاملة: وهو أمر مندوب إليه، لقوله تعالى: "وعاشروهن بالمعروف "ولقوله صلّى الله عليه وسلم: "خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي"وقوله:"استوصوا بالنساء خيراً".ومن العشرة الطيبة...ألا يستمتع بها إلا بالمعروف، فإن كانت نِضْو الخلق (هزيلة) ولم تحتمل الوطء، لم يجز وطؤها لما فيه من الإضرار.
حكم الاستمتاع أو هل الوطء واجب؟ قال الحنفية: للزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها، كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج."( 9 /6598 -6599)