السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں شیراز علی اور میری بیگم ہمارے درمیان کچھ نااتفاقی کی وجوہات پر بیگم نے سٹی کورٹ سے خلع کا کیس کرکے مجھ سے علیحدگی لے لی تھی، میں کورٹ میں جج کے سامنے حاضر ہوا تھا اور میں نے جج کو بھی خلع دینے سے انکار کیا تھا، لیکن جج نے زبردستی بیگم کو خلع کی ڈگری جار کردی، لہٰذا اب دو سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بیگم دوبارہ سے ساتھ رہنا چاہتی ہے، اور میں نے چھ سال قبل معاملات کو صحیح کرنے کے لئے ایک طلاق رجعی دے چکا تھا اور عدت کے اندر ہی رجوع کرلیا تھا، ان سب معاملات میں اب ہمیں کیا کرنا چاہیئے اور اس بارے میں مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں، برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں، عین نوازش ہوگی!
سائل نے اگر چھ سال قبل ایک صریح طلاق دے کر دورانِ عدت رجوع کرلیا تھا تو اس سے نکاح بدستور برقرار تھا، البتہ آئندہ کے لئے سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار تھا، جبکہ حالیہ واقعہ میں اگر سائل کی بیوی نے کورٹ سے سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر یکطرفہ خلع کی ڈگری لی ہو، سائل یا اس کے وکیل نے خلع کے پیپرز پر دستخط نہ کئے ہوں تو اس یکطرفہ خلع کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، اس کی وجہ سے سائل کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بدستور برقرار ہے، لہٰذا دونوں حسب سابق ساتھ رہ سکتے ہیں، تجدید نکاح کی کوئی ضرورت نہیں۔
کما فی رد المحتار: تحت ( قولہ و شرطہ کالطلاق ) و ھو اھلیۃ الزوج و کون المرأۃ محلا للطلاق منجزا او معلقا علی ملک ، و أما رکنہ فھو کما فی البدائع إذا کان بعوض الإیجاب و القبول لأنہ عقد علی الطلاق بعوض فلا تقع الفرقۃ و لا یستحق العوض بدون القبول الخ۔ ( کتاب الطلاق ، باب الخلع ، ج۔۳ ص۔۴۴۱ ، ط۔ ایم سعید )۔
و فی المبسوط للسرخسی : ( قال ): و الخلع جائز عند السلطان و غيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود ، و هو بمنزلة الطلاق بعوض، و للزوج ولاية إيقاع الطلاق ، و لها ولاية التزام العوض ،الخ۔( کتاب الطلاق ، باب الخلع ، ج۔۶ ، ص۔۱۷۳ ، ط۔ ادارۃ القرآن )۔
و فی البحر الرائق : الخلع معاوضۃ فلا یتم برکن واحد الخ۔( ج۔۴ ، ص۔۷۲ ط۔ ماجدیہ )۔