السلام علیکم! میرا نام محمد عمیر میمن ہے، میرا پروفیشن حج اور عمرہ کے زائرین کا گروپ تیار کرکے زیارت کروانا ہے (ٹریول ایجنٹ) کووڈ19 میں نقصان کی وجہ سے میری بیوی سے پیسوں کی تنگی میں تکرار چلتی رہی، لیکن میں نے صبر اور شکر سے معاملات کو چلایا اورحلال روزی دستیاب کی اور کافی محنت کے بعد اب مستقل سعودی عرب شفٹ ہوگیا ہوں، میرے جاتے ہی میری بیوی نے کورٹ میں خلع کا کیس دائر کردیا اور جھوٹے الزامات کا ذکر کیا، میری درخواست ہے کہ اس سلسلے میں مجھے فتوی جاری کیا جائے کہ کیا کورٹ سے ہماری طلاق ہوجائے گی؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس میں فریقین کا باہمی رضامندی سے ایجاب و قبول کرنا شرط ہے اور یہ شرط عموماً عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتی ہے جس کی وجہ سے شرعاً نکاح بھی ختم نہیں ہوتا ، بلکہ بدستور برقرار رہتا ہے ۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل یا اس کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے عدالت میں حاضر ہوکر خلع کے پیپرز پر دستخط نہ کیے ہوں اور کورٹ نے سائل کی بیوی کی درخواست پر یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کردی ہو تو اس ڈگری کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ، بلکہ نکاح بدستور برقرار ہے ، لہٰذاسائل کی بیوی کا مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری کی بنیاد پر دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما فی رد المحتار : ( قوله و شرطه كالطلاق ) و هو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا ، أو معلقا على الملك وأما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض ، فلا تقع الفرقة ، و لا يستحق العوض بدون القبول الخ۔ (ج۳، ص۴۴۱، ط۔ سعید)۔
و فی المبسوط للسرخسی : ( قال ) و الخلع جائز عند السلطان و غيره لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود و هو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج و لاية إيقاع الطلاق ، و لها و لاية التزام العوض الخ۔(ج۳، ص۱۷۳ باب الخلع، ط ۔ دارالمعرفۃ)۔