السلام علیکم!
حضرت! مجھے خلع سے متعلق سوال کرنا تھا، میرا نکاح ہوا تھا، رخصتی نہیں ہوئی ، میرے شوہر نے مجھے کہا کہ مجھے نہیں رکھنا چاہتا ، میرے گھر والے ان کے گھر گئے دو تین دفعہ، ان کا کہنا یہ تھا کہ ہمارے بیٹے نے آپ کی بیٹی کو نہیں رکھنا، آپ کو خلع لینا ہے تو خود لے لیں اور اگر بٹھانا ہے تو آپ کی مرضی، میں نے کورٹ سے خلع لے لی، تو کیا یہ خلع ہوگئی ہے؟ اس میں ضروری تو نہیں لڑکا منہ سے بولے کہ میں نے طلاق دی؟ کیا میں دوسری جگہ شادی کرسکتی ہوں؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ ِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس میں فریقین کا باہمی رضامندی سے ایجاب و قبول کرنا شرط ہے جو کہ یہ شرط عموماً عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتی ہے جس کی وجہ سے شرعاً نکاح بھی ختم نہیں ہوتا، بلکہ بدستور برقرار رہتا ہے ۔
لہٰذا صورتِِ مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر یا اس کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے عدالت میں حاضر ہوکر خلع کے پیپرز پر دستخط نہ کیے ہوں اور کورٹ نے سائلہ کی درخواست پر یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کردی ہو تو اس ڈگری کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ، بلکہ نکاح بدستور برقرار ہے ، لہٰذا سائلہ کا مذکور یکطرفہ خلع کی ڈگری کی بنیاد پر دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، جبکہ خاندان کے معززین کو چاہئیے کہ لڑکے کی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے اس کو سمجھا کر ان کا گھر بسانے کی پوری کوشش کریں ، تاہم اگر اس کے باوجود لڑکا اس رشتے کو برقرار نہیں رکھنا چاہتا اور لڑکی کے والدین بھی اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہوں کہ اب اس رشتہ کو ختم کرنا ہی مناسب ہے تو ایسی صورت میں کوئی بھی مناسب طریقہ کار اختیار کرکے اور دونوں طرف کے معزز لوگوں کو شامل کرکے لڑکے سے باقاعدہ خلع یا طلاق لے کر اس معاملہ کو حل کرنا چاہئیے تاکہ عورت اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔
کما فی رد المحتار : ( قوله و شرطه كالطلاق ) و هو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا ، أو معلقا على الملك وأما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض ، فلا تقع الفرقة ، و لا يستحق العوض بدون القبول الخ۔ (ج۳، ص۴۴۱، ط۔ سعید)۔
و فی المبسوط للسرخسی : ( قال ) و الخلع جائز عند السلطان و غيره لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود و هو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج و لاية إيقاع الطلاق ، و لها و لاية التزام العوض الخ۔(ج۳، ص۱۷۳ باب الخلع، ط ۔ دارالمعرفۃ)۔