شوہر اگر طلاق نہ دے تو خلع کا شرعی مسئلہ کیا ہے ؟ کافی سال ہو گئے شوہر نے گھر بھیج دیا ، اب نہ طلاق دیتا ہے اور نہ گھر واپس بلا تے ہیں،مجھے اسلام کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
اولاً تو سائلہ کو چاہئے کہ خلع اور طلاق وغیرہ کے ذریعےعلیحدگی اختیار کرنے کے بجائے باہمی اختلافات و تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرے، تاہم اگر کوشش کے باوجود نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہوسکے، تو ایسی صورت میں سائلہ کیلئے اپنے شوہر سےخلع وغیرہ کے ذریعے علیحدگی اختیار کرنا بھی جائز اور درست ہوگا ۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ سائلہ کسی اسٹامپ پیپر وغیرہ پریہ تحریر لکھے کہ ’’میں حق مہر یا کچھ مال (جو طے ہوجائے) کے عوض اپنے شوہر سے خلع چاہتی ہوں‘‘ اور اس کے بعد شوہر یہ تحریر کرے کہ ’’میں حق مہر کی معافی وغیرہ کے عوض اپنی بیوی کو خلع دیتا ہوں‘‘، اور پھر بہتر یہ ہے کہ اس پر دو مردوں کو گواہ بھی بنادیا جائے، چنانچہ اس طرح کرنے سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی، جس کے بعد عدت گزار کر وہ اپنی مرضی سے کسی بھی جگہ عقدِ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
كمافي احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهماإلا يرضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها .الخ ـ(153/3)۔
وفي بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول الخ (145/3)۔
و في التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر إلى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ (453/3)۔