میں نے قسم کھائی کہ ”اگر جب بھی فلاں کام ہوا تو کلمہ ضرور پڑھوں گا “اب اگر یہ قسم توٹ جاتی ہے تو کیا مجھے ایک کفارہ دینا ہوگا یا زیادہ ؟
صورتِ مسئولہ میں جو سائل نے مذکور الفاظ ”اگر جب بھی فلاں کام ہوا تو کلمہ ضرور پڑھوں گا “ کہے ہیں ا سے شرعاً نذر کہا جاتا ہے چونکہ بعض اوقات میں کلمہ پڑھنا فرض ہے لہذاسائل کی نذر شرعاً درست ہے البتہ اگر وہ کام ہوجاتا ہے تو سائل پر منت کو پورا کرنا واجب ہے ، تاہم اگر منت پوری نہیں کرتا اور اس کے علاوہ کوئی اور قسم کا کفارہ لازم نہ ہو تو ان پر صرف ایک قسم کا کفارہ لازم ہو گا زیادہ کفارے لازم نہیں ہوں گے جس کی تفصیل یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلایا جائے، یا اس کو متوسط درجہ کے کپڑے پہنائے جائیں ۔ اور اگر ان دونو ں کی وسعت و قدرت نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھے جائیں۔
کما فی سنن ابی داؤد عن محمد مولی المغیرۃ قال حدّثنی کعب بن علقمۃ عن أبی الخیر عن عقبۃ بن عامر رضی اللہ عنہ قال رسول اللہ ﷺ (کفارۃ النذر کفارۃ الیمین) الحدیث (باب من نذر نذرا لم یسمہ ، ج: 2، ص؛ 1290، ط: البشری)۔
وفی الدر: (و من نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط وکان من جنسہ واجباً ) أی فرض کما سیصرح بہ تبعاً للبحر والدرر (وھو عبادۃ مقصودۃ) خرج الوضوع وتکفین المیت ( ووجد الشرط) المعلق بہ لزم الناذر لحدیث (من نذر و سمی فعلیہ الوفاء بما سمی) کصوم وصلاۃ وصدقۃ) ووقف (و اعتکاف) وأعتاق رقبۃ و حج ولو ماشیاًالخ۔(مطلب فی أحکام النذر، ج: 3،ص: 735،ط: سعید)۔
’’اگر میں نے اس کام کو دوبارہ کیا تو میں اللہ اور اس کے رسول کا بڑا دشمن ہوں گا‘‘کہنے کا حکم
یونیکوڈ قسم کا کفارہ 0