السلام علیکم !اپنی بیوی سے صحبت کے وقت دودھ حلق میں چلا گیا،اس کے بارے میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں، اور اس کا کوئی کفارہ ہو, تو وہ بھی بتا دیں ۔جزاک اللہ !
شوہر کیلئے بیوی کے پستان منہ میں لینا تو جائز ہے،البتہ اس دوران اگر دودھ منہ میں چلا جائے ، تو شوہر کیلئے اس کا پینا جائز نہیں ہے،بلکہ گناہ ہے،اس لئے اگر سائل نے بیوی کا دودھ پی لیا ہو ، تو وہ گناہ گار ہوا ہے،اس پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے اجتناب لازم ہے،تاہم ایسا کرنےسے سائل کے نکاح وغیرہ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
کما فی الدرالمختار: مص رجل ثدي زوجته لم تحرم اھ (ج3،ص225،ط:سعید)۔
وفیه ایضاً: مص من ثدي آدمية ولو بكرا أو ميتة أو آيسة، وألحق بالمص الوجور والسعوط (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان) فقط (عندهما وهو الأصح) (الی قولہ) ولو بعد الفطام محرم وعليه الفتوى (الی قولہ) لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية" اھ (كتاب الرضاع، ج3،ص209۔210۔211،ط: سعيد)۔
وفی فتاویٰ قاضیخان :إذا مص الرجل ثدي امرأته وشرب لبنها لم تحرم عليه امرأته لما قلنا أنه لا رضاع بعد الفصال اھ(باب الرضاع،ج 1،ص 362)۔