گزارش ہے کہ میری شادی جون 2006 میں انجام قرار پائی تھی، اور میری منکوحہ سے میرے درج ذیل تین بچے ہیں(1) بیٹی رومیہ (2) بیٹا عبدالرحمن (3) بیٹی عروج ۔ میری ازدواجی زندگی کے تقریبا16 سال ہم میاں بیوی ایک ساتھ رہے ۔ تقریبا دو سال قبل جون 2022 میں میری زوجہ گھر کے کسی فرد کو بتائے بغیر بڑی بیٹی رومیہ کو ساتھ لے کر گھر سے چلی گئی اور بیٹے کو جو کہ ذہنی معذور ہے اس کو چھوڑ گئی، جبکہ دوسری بیٹی عروج سب سے چھوٹی والی فوت ہو چکی ہے، گھر چھوڑنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ پہلے پہل ایبٹ آباد میں مقیم اپنی بہن کے گھر گئی، بعد ازا وہ اپنے گاؤں واقع بٹہ موڑی ، ضلع بٹگرام اپنے میکے چلی گئی ۔ گزشتہ دو سالوں میں ہم نے متعدد جر گوں کے تحت افہام و تفیہم سے مسئلے کو حل کرنے کی لا تعداد کوشش کی ، جو کہ بار آور ثابت نہ ہو سکی، اب حال ہی میں انہوں نے ہمیں آ گاہ کیا کہ لڑکی نے کورٹ سے خلع کی ڈگری حاصل کی ہے ، جبکہ کورٹ کے کسی بھی معاملے کا مجھے کوئی علم نہیں ہے، اور نہ ہی آج تک مجھے کورٹ کی طرف سے کوئی نوٹس ملا ہے اور نہ ہی فیصلے سے مجھے آگاہ کیا ہے ،چنانچہ عرض یہ ہے کہ کیا کورٹ کے اس یکطرفہ فیصلے سے طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟ از راہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ!
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ،جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقود ہوتا ہے ، لہذا سائل کی بیوی نے اگر سائل یا اسکے مقرر کردہ وکیل کی اجازت و رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو اس یکطرفہ خلع کی ڈگری سے شرعاً سائل کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ بدستور بر قرار ہے۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اھ ( 3/ 153) ۔
وفي التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر الى الايجاب والقبول يثبت الفرقةويستحق عليها العوض اھ (3/ 453)۔